عظیم زندگی

by Other Authors

Page 64 of 200

عظیم زندگی — Page 64

۶۴ تقوی کی روح کو پیدا کریں۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے :- ياَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔(۲۲ :۲) اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھی اور انہیں بھی جو تم سے پہلے گذرے ہیں پیدا کیا تا کہ تم آفات سے بچو۔یاد رکھو بہترین زادِ راہ تقوی ہے۔روز سے انسان کو تقوی کی طرف لے جاتے ہیں بشر طیکہ روزہ کی حالت میں انسان کو حانی ترقی پر آمادہ رہے۔چاہت ہی وہ قوت ہے جو انسان کو اس کے حصولِ مقصد کی طرف لے جاتی ہے اور پھر چاہت کے ساتھ اگر عزم بھی مل جائے تو پھر انسان کو اس کے مقصد حاصل کرنے میں ماسوائے خدا کے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔دیکھو پہاڑ پر کوئی انسان ایک سانس میں نہیں چڑھ سکتا اور نہ ہی خدا کا ایک فرمانبردار بندہ متواتر روزے رکھنے سے یک دم روحانی پاکیزگی حاصل کر سکتا ہے انسان کو یہ کالم رفتہ رفتہ منزل بہ منزل کرنا چاہیئے۔ہر نفلی روزہ رکھنے سے قبل انسان کو یہ عزم کرنا چاہیے کہ وہ روزہ کے مکمل ہونے پر پہلے سے زیادہ متقی بن چکا ہو گا۔ایک شخص اگر اس عملی طریق کار کو اپنائے تو روزہ کی برکات سے زیادہ مستفید ہو گا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے سے انسان کس طرح زیادہ متقی بن سکتا ہے ؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ بعض روزے تحقیقی روزے ہوتے ہیں اور بعض صرف نام کے نہ کھانے پینے سے اس وقت تک کوئی روحانی فائدہ نہ ہو گا جب تک کہ روزہ کی حقیقی روح دل میں پیدا نہیں ہوتی۔اکثر مسلمان روزہ صرف عادت سے مجبور یا روایت کے طور پر رکھتے ہیں۔اگر ایسے شخص سے پوچھا جائے کہ ;