عظیم زندگی

by Other Authors

Page 63 of 200

عظیم زندگی — Page 63

۶۳ 6 حصول تقوی اور صيام قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ٥ ۱۸۴:۲۱) خدا وند کریم نے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو یہ صیحت کی ہے کہ وہ تقوی کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھیں کیونکہ تقوی ہی ایک مثالی کردار کی خوبی ہے۔پھر مسلمانوں کو تقوی کے حصول میں ہمیشہ کوشاں رہنے کی نصیحت کی گئی ہے کیونکہ یہ خوبی خدا کی نگاہ میں سر سے اچھا ہونے کی دلیل ہے۔قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتقیم (۱۲۱۴۹) اللہ کے نزدیک تم میں باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔تقویٰ کے حصول میں ہر مسلمان کو خلوص دل سے تگ و دو کرنی چاہیے۔درحقیقت یہ روحانی صفت ایک مقناطیسی قوت کی مانند ہے جو اس قدر طاقتور ہے کہ اس کی چمک سے دل بدل جاتے ہیں۔حضرت علی کا قول ہے کہ جو تقوی کو اپنا مطمع نظر بناتا ہے وہ پخت دل انسان کو نرم اور غیروں کو اپنا بنا لیتا ہے۔روزہ کا اسلامی نظام در اصل ایک روحانی مشتق ہے جو تقی بننے میں ممد و معاون ہوتی ہے۔قرآن حکیم میں مسلمانوں کو بار بار نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دلوں میں