عظیم زندگی — Page 50
ہیں جس طرح ایک خلائی سیارہ کی کامیابی کا دارو مدار کنٹرول سنٹر پر ہے جو اس کے گوناگوں کاموں اور حالتوں کا خیال رکھتا اور ہدایات دیتا ہے اسی طرح روحانی پرواز کے لئے بھی انسان کو ایک اندرونی کیفیت کا پانا ضروری ہے اور وہ کیفیت ہے ضبط نفس ضبط نفس ہی وہ چیز ہے جو انسان کے کردار کو رنگین کرتی ہے۔کردار کے بنانے میں اِس کا دخل بہت زیادہ ہے۔اِس لئے اِس کے حاصل کرنے میں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔اپنے کردار کو بلندیوں تک پہنچانے کی طاقت فی الحقیقت انسان کے اندر ہی پوشیدہ ہے۔یہ بجا ہے کہ تمام طاقت کا سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے لیکن وہ ان ہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّىه (۱۵:۸۷) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا۔ایک مومن ہمیشہ خدا کی پناہ میں رہنا پسند کرتا ہے شیطان کا اس پر دائمی غلبہ نہیں ہوسکتا۔اس مقصد کے حاصل کرنے کے لئے خدا کی تائید و نصرت کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور خدا تعالے اپنا ہاتھ اس شخص کو ضرور دیتا ہے جو اس کی طرف بڑھنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔اسلامی طریق زندگی نهایت منظم طریق حیات ہے جو اطاعت، کوشش اور نگرانی پر خاص زور دیتا ہے۔نظم و ضبط کی ریڑھ کی ہڈی درحقیقت ضبط نفس ہے۔گذشتہ انبیاء صوفیاء اور اولیاء کی زندگی کا مطالعہ ہمیں بتلاتا ہے کہ ان کی زندگی میں ضبط نفس کا بہت دخل تھا جس کی بناء پر ان میں روحانی جذب او کشش پیدا ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہر عمل، ہر بول اور ہر حرکت پر ضبط حاصل تھا آپ فرض کے راستہ پر ہمیشہ گامزن رہے اور سخت سے سخت آزمائش میں بھی صبر