عظیم زندگی

by Other Authors

Page 22 of 200

عظیم زندگی — Page 22

۲۲ ہوتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَاتَّقُوا اللهَ لا ولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (۵:۱۰۱) پس اسے عقلمند و اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم با مراد ہو جاؤ پھر فرمایا اے ایماندار و صبر سے کام لو اور دشمن سے بڑھ کر صبر دکھاؤ اور سرحدوں کی نگرانی رکھو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔(۳:۲۰۱ ) اِس جہان کی زندگی آنے والی زندگی کی محض تیاری ہے۔نیک اعمال اور افعال سے انسان قبر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسی دنیا میں جنت کا مزہ چکھ سکتا ہے جنت کی نعماء کا اِس دُنیا کی لذتوں سے کوئی مقابلہ نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس دنیا کی لذتوں کے بارہ میں ارشاد فرماتا ہے : وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْرُ وَلَدَارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (۶:۳۳) اور ورلی زندگی کھیل اور شغلہ کے سوا کچھ نہیں اور جو لوگ تقومی اختیار کرتے ہیں ان کے لئے پیچھے آنے والا گھر یقیناً بہتر ہے پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے يُقَوْمِ إِنَّمَا هَذِهِ الْحَمُوةُ الدُّنْيَا مَتَاعُ دَوَّانَ الْأَخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ (۴۰ : ۴۰ ) اسے میری قوم یہ وربی زندگی صرف ایک چند روز کا فائدہ ہے اور اخروی زندگی ہی یقیناً پائیدار ٹھکانہ ہے۔ہر نفع بخش چیز کے حصول کے لئے کوشش لازمی امر ہے۔روحانی خصوصیات کے حصول کے لئے بھی یہی اصول صادق آتا ہے اور اسلام میں یہی مقصد حیات ہے۔جسمانی صحت خدا کی بڑی نعمت ہے لیکن روحانی صحت تو بہت ہی بڑا انعام ہے معمولی سی تکلیف سے بھی انسان تڑپ اٹھتا ہے اور خواہ معمولی سردرد یا ز کام ہو تو فورا دو ادارو کے لئے تگ و دو کی جاتی ہے لیکن کیا ہی بد قسمتی ہے کہ روحانی دکھوں کے علاج کی طرف توجہ ہی نہیں دی جاتی ہر شخص کا وجود اس کا