عظیم زندگی — Page 161
پر دوسری تمام مذہبی کتابوں سے زیادہ روشنی ڈالتا ہے جیسا کہ حشر آن کے خدائی کلام ہونے کا موضوع ایک وسیع مضمون ہے اس لئے ہم اس موضوع پر بحث نہیں کریں گے۔قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق روح انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔یہ جسم کے اندر کسی باہر کی دنیا سے داخل نہیں ہوتی یہ انسان کے بیچ کے اندر چھپی رہتی ہے اور رحم کے اندر جسم کی پرورش کے ساتھ ساتھ پورش پاتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن مجید میں فرماتا ہے :- ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا المُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظُمَ لَحْمًا ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا اخر (۱۵:۲۳) اللہ تعالیٰ کے وحدانیت کے تصور کی صحیح سمجھ مثبت سوچ اور نیک اعمال ہی وہ اسباب ہیں جن پر روح کی ٹھیک پرورش کا انحصار ہے، اگرچہ اسلام سم کی حفاظت پر کافی زور دیتا ہے لیکن روح کی مناسب دیکھ بھال ہمارا معلم نظر ہوتا چاہیئے۔گویا دوسرے لفظوں میں یہ بہتر ہے کہ انسان اپنی زندگی گنوا دے مگر روح کو ہر گز نہ گنوائے۔روح ایک نہایت نازک اور خفیف جسم ہے بہ نسبت اینتھرک باڈی کے یوں لگتا ہے کہ موت کے بعد روح گویا " ایتھرک باڈمی میں سکون پذیر رہتی ہے قرآن مجید میں یہ سکھلاتا ہے کہ موت کے وقت سے لیکر روز قیامت تک کے درمیان وقفہ میں رُوح کسی دوسری صورت میں موجود رہے گی اور قیامت کے