عظیم زندگی — Page 150
۱۵۰ بڑے ہونے پر وہ لاطینی کے جملے جو اس کے غیر شعوری دماغ میں مستقل طور پر ریکارڈ ہو گئے تھے وہ شعوری دماغ میں ایک لخت آگئے۔اس واقعہ کے پیش نظر یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ کیونکر مسلمان بچوں کے پیدا ہونے پر ان کے کان میں اذان دی جاتی ہے۔غیر شعوری دماغ کو جسم کے تمام فنکشن اور مختلف حالتوں پر کنٹرول حاصل ہے۔دماغ کو مادہ کے کنٹرول کرنے کی طاقت حاصل ہے اور جیساکہ سیلف کنٹرول ایک بنیادی صفت ہے اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا حصول صرف سوچ کے کنٹرول (تھاٹ کنٹرول) سے ہی ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :- يبنى إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أو في السموتِ أَو فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللهُ إِنَّ اللهَ (۱۷:۳۱) لطيف جيره غیر شعوری دماغ نہ صرف بیرونی ہدایات بلکہ اندرونی ہدایات کے بھی زیر اثر ہوتا ہے۔اندرونی ہدایات کے ماتحت انسان اپنے تحت الشعوری دماغ پر ایسی اشیاء ، خیالات اور حالات کو چسپاں کرتا ہے جن کو وہ دماغ کی تخلیقی قوت کے ماتحت حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے۔ہر شخص اپنے نفس پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے مگر یا در ہے کہ اس کا حصول دماغ کی صحیح تربیت پر مبنی ہے مندرجہ ذیل مثالیں یہ بات اظہر من الشمس کریں گی کہ دماغ کو مادہ یا اشیاء پر کنٹرول حاصل ہے :۔ہونے کو بری خبر کے گنے پر ہاضمہ کا نظام خراب ہو جاتا ہے، خون کی رگیں شکر -