عظیم زندگی — Page 90
ترقی پر توجہ دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کا پیارا بندہ اپنی روحانی ترقی کو نظر انداز نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ اس کی محبت خدا کے لئے بہت زیادہ ہونی چاہئیے۔وہ اپنے اندر الہی صفات پیدا کرنے کے لئے جوش مارتا ہے۔اگرچہ وہ دنیوی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کرتا لیکن روحانی ترقی کے راستہ میں تمام رکاوٹوں سے وہ اچھی طرح آگاہ اور محتاط رہتا ہے اور یہ جانتے ہوئے خدا کے فضل اور حفاظت کے لئے دُعا کرتا ہے کہ اس کی اصل حقیقت اس مادی جسم میں نہیں جبکہ اس روحانی جسم میں ہے جس پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :- وَمَا الْحَلوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِب وَلَهُوهُ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ (۳۳:۶) يقوم إنّما هذه الحلوة الدُّنْيَا مَتَاعُ وَانَ الْآخِرَةَ هِيَ ( ۴۰ : ۴۰) دار القراره روحانی ترقی کے لئے خواہش ایک مسلمان کے اندر ایسے جوش مارے جیسے ایک متلاطم سمندر میں موجیں اٹھتی ہیں۔اُسے یہ سوچ کر ہمت نہیں ہارنی چاہیئے کہ اعلی ترقی صرف چند ایک انسانوں کے لئے ہی مخصوص ہے اس کو دوسروں سے آگے بڑھنے کیلئے زبر دست کوشش کرنی چاہیئے۔اس کی ہر دعا اور خواہش یہ ہونی چاہیئے کہ ہر صبح اس بات پر گواہی دے کہ اس نے روز روحانی ترقی حاصل کی ہے۔روحانی مقابلہ ایک صحتمند مقابلہ ہے جس کی دلیل قرآن سے ملتی ہے :- وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَتِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (۱۲۹:۲) تجارت کے میدان میں مقابلہ کی روح ہر آن نمایاں نظر آتی ہے اور وہ جو اپنے