عظیم زندگی — Page 85
۸۵ کی کتاب یعنی قرآن مجید کے بارہویں سیپارہ میں آیا ہے۔اکثر مشاہدہ میں آیا ہے کہ جہاں محبت ہوگی وہاں حسد بھی ہوگا۔یہ متضاد ہے مگر ہے درست محجبت بہت مسئلہ سے سمجھتی اور حسد ان مسائل میں سے ایک ہے۔گھاس میں چھپے ہوئے سانپ کی طرح محمد بھی اپنا زہر ملا سر زندگی کے معاملات میں اٹھاتا ہے جس طرح انسان میں جنسی خواہش جسم میں قدرتی طور پر ابھرتی ہے حسد بھی ہماری فطرت کا ایک جزو ہے ماسوائے انبیاء کے دُنیا میں شخص پر یہ شیطانی قوت حملہ کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے ؟ تو یا درہے کہ ہمیں ہر وقت خدا کی پناہ نماز کے ذریعہ مانگنی چاہیے اور ان احباب کے لئے دعا کرنی چاہیے جن کے بارہ میں ہم میں حسد کے خیالات پیدا ہوں۔قرآن مجید تمام روحانی بیماریوں کا علاج ہے جندا سے دُعا اور یقین محکم سے ہمارے دل سے حسد کے بادل رفع ہو جائیں گے اور ذہن کا یہ بخار چاہے کم ہو یا زیادہ ختم ہو جائے گا۔بانی جماعت احمدیہ حضرت احمد علیہ السلام کو خدا نے پرسکون دماغ عطا کیا تھا چنانچہ آپ نے فرمایا "ئیں نے اپنے دماغی رجحان میں غصه و ناراضگی کے احساسات کو ختم کر دیا ہے۔قابل رشک بات تو یہ ہے کہ دوسروں کے بارہ میں کبھی ہتک آمیز طریق سے بات نہ کرو اگر کسی میں کوئی خامی ہے تو اس کے بارہ میں اس سے خاموشی سے ذکر کرنا مناسب ہے بجائے اس کے کہ تلخ کلامی کی جائے اور اس دُعا کا ہمیشہ ورد کرتے رہنا چاہیئے وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَه (۶:۱۱۳) خون رسول مقبول حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ زندگی میں