عظیم زندگی — Page 84
حدیث نبوی ہے کہ " اے لوگو اپنے آپ کو حسد سے بچاؤ کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ ایندھن کو یا مبتلا حسد بن بلائے دل میں داخل ہو جاتا ہے اور دنیا میں کون ہے جو اس میں نہ ہوا ہو ؟ یہ ایک شخص پر اُس وقت حملہ کرتا ہے جبکہ اس کا کوئی ذرہ بھر گمان بھی نہیں ہوتا۔اچھے سے اچھے لوگ بھی اس کے خطرناک بخار سے نہیں بچ سکتے۔یہ دماغ کو آگ لگا دیتا ہے اور سکون کا ستیا ناس کر دیتا ہے۔انجیل مقدس میں ذکر ہے کہ حسد قبر کی طرح خطرناک ہے اس کا ایندھن آگ کا ایندھن ہے جس کا شعلہ نہایت ہولناک ہے۔ایک انگریز شاعر نے اس وباء کے نتائج کو اس طرح بیان کیا ہے سے اسے جہنم کے سب سے ہولناک دیو تیرا ملک زہر میرے اعضاء رئیسہ پر حملہ کرتا ہے اور میرے رخساروں کا حسین رنگ دھندلا جاتا ہے اور میری روح کا ستیا ناس کر دیتا ہے حسد بھائی چارہ کوختم کر دیتا ہے جو کہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" ایک دوسرے سے حسد نہ کر و باہمی تعلق ختم نہ کرو بلکہ سب بھائیوں کی طرح اللہ کے خادم نبو یہ حسد نے مردوں اور عورتوں کو قابل نفرت افعال اور قتل کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اس قدر حاسد تھے کہ وہ اپنے ہی چھوٹے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔اس کا ذکر اللہ تعالئے