عظیم زندگی — Page 80
میں گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نپولین وردی میں ملبوس نقشوں، کتابوں اور چارٹ سمیت بیٹھا ہوا ہے۔افسر نے پوچھا " کیا آپ ابھی تک سوئے نہیں ؟۔سونا ، نپولین نے “۔“ جواب دیا " میں سو کے اٹھ بھی چکا ہوں جناب یا افسر نے حیرانگی سے پھر دریافت کیا کیا کہا آپ نے سو کے اُٹھ بھی گئے " نپولین نے جواب دیا " ہاں دوست اتنی جلدی اُٹھ گیا۔دو یا تین گھنٹہ کی نیند ہر کسی کے لئے کافی ہے؟" روحانی دنیا میں بھی بعینہ انبیاء اور اولیاء اللہ اپنی راتیں اللہ جل شانہ کی عبادت میں گزارتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا " کس نے ہمارے دوستوں سے یہ کہا ہے کہ زندگی کیسی ہے موت کا کوئی موسم نہیں یہ کسی بھی وقت آسکتی ہے لہذا ہمیں اپنے وقت کی قیمت جاننی چاہیے یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا صرف قصے اور کہانیاں باقی رہ جائیں گی یہ حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اتنا وقت بیت الخلاء میں ضائع ہو جاتا ہے کاش کہ یہ وقت بھی خدمت اسلام میں صرف ہوتا۔آپ نے شستی کی مذقت سخت الفاظ میں کی اور فرمایا :- ہر ایک جو تم میں سے مدت ہو جائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا؟ (کشتی نوح) سستی ہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان پانچ وقتہ نماز کی ادائیگی میں نشستی دکھاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کی روحانی ترقی رک جاتی ہے محض نماز کا ادا کرنا ہی کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک کہ وہ توجہ اور شوق سے نہ ادا کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام