عظیم زندگی — Page 11
بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔کہا تو یہ یہی جاتا ہے کہ اگر کوئی ترقی نہیں کر رہا تو پھر وہ تنزل پذیر ہے۔یہ نیک مقصد جو ہمارے سامنے ہے ہم سے اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم صبر و استقلال سے کوشش کرتے رہیں اور جب خدائے تعالیٰ کے حضور حاضری کا وقت آئے تو ہر شخص یہ کہے کہ مرنے والا نہایت اعلیٰ اخلاق کا مالک تھا۔قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : انَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (۲:۱۵۴) یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا اخلاق حسنہ بغیر کوشش کے پیدا نہیں ہوسکتے ہمیں مسلسل غور کرنا ہوگا اور اپنا تجزیہ محاسبہ اور مضبط نفس کرتے رہنا ہو گا لیکن چونکہ ہم انسان ہیں فرشتے نہیں نیز ہم انتہائی کمزور ہیں اس لئے ممکن ہے کہ کبھی کبھار دیدہ و نادانستہ غلطی بھی کر جائیں اس لئے ہمیں بہت سے وساوس سے جد و جہد بھی کرنا ہوگی لیکن ہاں اگر ہمارا ارادہ مضبوط ہو اور ہماری روح توانا ہے تو پھر ہمیں کامیابی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حصولِ اخلاق میں ہماری کوششیں ہمیں بندی کی طرف ہی لے جائیں گی خواہ ہم اپنے ارادوں کی انتہاء سے کہیں کم ہوں لیکن اِس دوران ہم نیکی کے اس راستہ پر سفر کر چکے ہوں گے جو ہمیں سیدھا جنت کی طرف لے جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اگرچہ ہم میں کمزوریاں ہوں اور گھر بھی پڑیں لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیئے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - (۳۹:۵۴)