عظیم زندگی — Page 3
كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (۲:۱۸۴) ا ، (۲:۱۸۴ ) اسے ایمان والو تمہارے نے لئے روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں کے لئے فرض کئے گئے تھے تا تم متقی بن جاؤ۔اس آیت کریمہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں رمضان کے آنے کا بیتابی سے انتظار کرنا چاہیے اور پھر پورے ذوق و شوق سے روزے رکھنے چاہئیں ماسوا اس کے کہ کسی مجبوری کے باعث کوئی روزہ ہم سے چھوٹ جائے۔اس دنیا میں لوگوں کی اکثریت اقتصادی و مالی خوشحالی کے حاصل کرنے کی تنگش رو میں لگی ہوئی ہے مگر وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جس طرح چاندی سونے سے کم تر ہے اسی طرح سونا نیکی کے مقابلہ میں کم تر ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے و اِنَّهُ لِحُبّ الْخَيْرِ لَشَدِيدُ (٩ : ١٠٠) ترجمہ : اور وہ یقینا مال کی محبت میں بہت بڑھا ہوا ہے۔دولت حاصل کرنا کوئی بری چیز نہیں مگر ہمیں یہ جائزہ بھی تو لیتے رہنا چاہیے اور سمجھ لینا چاہئیے کہ روپیہ کی لالچ میں کہیں ہم نے ان نیکیوں کو تو ضائع نہیں کر دیا جنہیں دولت خرید نہیں سکتی حقیقی خوشحالی کے بارہ میں اللہ تعالی قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے قدا فَلَحَ مَنْ تَزَكَّى (۱۵ : ۸۷ ) ترجمہ : جو پاک بنے گا وہ کامیاب ہوگا۔شخص کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جیسے صحت اور جسم کا تعلق ہے ویسے ہی نیکی اور روح کا بھی آپس میں تعلق ہے۔لوگ اپنی صحت کا تو بہت خیال رکھتے ہیں اور اپنی غذا کی طرف توجہ دیتے ہیں۔جب بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کو فوراً بلاتے ہیں اور بہترین دوا کی جستجو کرتے ہیں لیکن اپنی روح کی نشو و نما کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے چنانچہ روحانی امراض کے علاج کی جستجو بھی نہیں کی جاتی ہے۔