عظیم زندگی — Page 4
نیکیوں کے بارہ میں اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔خدا بھی انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں اور یہ ہمارا فرض ہے کہ خدا کا فضل اور مدد مانگتے ہوئے ان نیکیوں کو اپنے اندر پیدا کریں۔اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے کردار اور خیالات کو ڈھالنے کا نام ہی اخلاق ہے مثلاً محبت اس وقت نیکی بن جاتی ہے جب اس کا اظہار صحیح طریق پر ٹھیک موقع پر کیا جائے لیکن اس کے برعکس اگر اس کا غلط رنگ میں اظہار کیا جائے تو اسے نیکی نہیں کہا جائے گا۔جانور جب اپنے بچوں کے لئے محبت اور نگہداشت کا اظہار کرتے ہیں تو یہ جبلی اظہار ہوتا ہے اور اسے نیکی کا نام نہیں دیا جا سکتا محبت اس وقت نیکی کھلائے گی جب اس کا اظہار صحیح طریق پر اسلامی قوانین کی حدود کے اند ر کیا جائے گا مثلاً ایک عورت جو اپنے بچے کے ساتھ بے جالاڈ پیار کرے اور اسے من مانی کرنے کی اجازت دے تو یہ نیکی نہیں کہلائے گی اور اسی طرح اگر ایک شخص دوسرے کی بیوی کو اپنے محبت کے جذبات کے اظہار کے لئے بھگا لے جائے تو اسے بھی نیکی نہیں کہا جائے گا صحیح وقت اور صحیح موقع پر نیک کردار دکھلانے کا نام نیکی ہے۔اخلاقی ترقی کے درجات بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد سیح موعود و مہدی معہود نے نیکی میں ترقی کرنے کے تین مدارج بیان فرمائے ہیں۔پہلا درجہ تو یہ ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کم سے کم ویسا ہی سلوک کریں جیسا کہ وہ ہم سے کرتے ہیں۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ اس سلوک سے بہتر کریں۔تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی خدمت