عظیم زندگی — Page 83
AM ذاتی وقار اور عزت کو فخر نہ جانو کیونکہ اول الذکر تو نیکی ہے جبکہ مؤخر الذکر ایک 7 گناہ ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے فرمایا ہے کہ فخر شرک کی ہی ایک صورت ہے آپ نے فرمایا کہ یہ نہایت قابل معقت چیز ہے اور نصیحت کی کہ کوشش کرو کہ دل میں اس کا ذرہ بھر باقی نہ رہے۔منصب والوں کی اطاعت نہ کرنا فخر کی ایک عام صورت ہے اس کی وجہ سے کئی ایک علماء اسلام کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔اسلام نے حاکم وقت کی اطاعت لازمت دار دی ہے ہاں سوائے اس کے کہ وہ اسلام کے خلاف کسی بات کا حکم دے۔دینی معاملات میں کون امام مقرر ہو یہ جاننا ضروری نہیں ہاں اس کی اطاعت فرض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شنوا اور اطاعت کرو خواہ تم پر ایسا شخص مقرر کیا جائے جس کا سر کشمش کے دانے کے برابر ہی ہو۔(بخاری) بعض دفعہ مشہور مقررین کے دلوں میں بھی فخر داخل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں بر خلاف اس کے کہ دل پر بھی اثر ہو حضرت مسیح موعود نے اس بارہ میں ایک مرتبہ جلسہ سالانہ قادیان میں فرمایا کہ بعض مقررین کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ زور سے اور تیزی سے بولیں گے تو سننے والے پر اس کا اچھا اثر ہو گا جبکہ حقیقت پر ہے کہ کوئی بھی ذہین شخص اس بات سے دھوکا نہیں کھائے گا کیونکہ ان کی آواز اندرونی کشش سے خالی ہے۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ اونچی آواز بعض اوقات ضروری بھی ہوتی ہے خصوصاً جبکہ مائیکر و فون کے بغیر تقریر کی جائے۔ہر حال جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کیس لہجہ میں بات کسی گئی وہ لمحہ جو دل کے سازوں کو اپنے خلوص سے ہلا دے۔