اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 82
الذكر المحفوظ في 82 أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْع الْقُرْآنِ قُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ وَرَأَيْتُ ذَلكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَكْرِ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌ عَاقِلٌ لَا نَتَهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقلَ جَبَل مِنْ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآن قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ وَالله خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرِ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ منْ الْعُسُب وَاللخَاف وَصُدُورِ الرِّجَال (بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن عبید بن السباق سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت نے کہا کہ جنگ یمامہ کے شدید خونریز معرکہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے مجھے بلا بھیجا۔جب میں پہنچا تو حضرت عمرؓ بھی وہاں موجود تھے۔حضرت ابوبکر نے مجھ سے فرمایا کہ عمرؓ نے مجھ سے کہا ہے کہ یمامہ کے معرکہ میں کثیر تعداد میں قراء قرآن کی شہادت کے واقعہ سے یہ ڈر پیدا ہوا ہے کہ اگر قراء کی شہادت مختلف مقامات پر اسی طرح کثرت سے ہوتی رہی تو قرآن کا ایک کثیر حصہ ضائع ہو جائے گا۔اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ ( یعنی حضرت ابو بکر ) قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔(حضرت ابوبکر فرمارہے ہیں کہ ) اس پر میں نے عمر سے کہا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ کام آپ کس طرح کر سکتے ہیں ؟ عمر نے کہا کہ خدا کی قسم اس کام میں بھلائی ہی ہے اور پھر مجھ سے مسلسل اصرار کرتے چلے گئے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ میں انشراح صدر عطا کیا اور میں بھی عمر کی رائے سے متفق ہو گیا۔(حضرت ابو بکر حضرت زید سے مخاطب ہیں کہ ) آپ جوان اور دانا آدمی ہیں۔آپ پر کسی نے کبھی الزام نہیں لگایا نیز آپ رسول اللہ صلی اللہ