اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 36 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 36

الذكر المحفوظ 36 دُنیا میں مسلمانوں کی بستیوں میں حافظ قرآن موجود ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ سے لے کر بلا شبہ اور بلا مبالغہ ہر دور میں ہزاروں ہزار حفاظ موجود رہے ہیں۔حفظ قرآن کے بارہ میں امت مسلمہ کی ایک غیر معمولی عادت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک ترکیب مسلمانوں نے حفاظت کی یہ اختیار کی ہوئی ہے اور اس پر صدیوں سے عمل ہوتا چلا آیا ہے کہ جو پیدائشی نابینا ہوتے ہیں انہیں قرآن کریم حفظ کروا دیتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ نابینا کوئی دنیوی کام تو کر نہیں سکتا۔کم سے کم وہ قرآن کی خدمت ہی کرے گا۔یہ رواج اتنا غالب ہے کہ لاکھوں مسلمان نابینوں کو بغیر پوچھے اور بغیر دریافت کیے ایک ہندوستانی ملتے ہی حافظ صاحب کے نام سے یاد کر یگا یعنی وہ جس نے سارا قرآن یاد کیا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نا بینوں میں سے اتنے حافظ قرآن ہوتے ہیں کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی نابینا ہو اور قرآن کا حافظ نہ ہو۔“ مزید فرماتے ہیں: (دیباچہ تفسیر القرآن ضیاء الاسلام پر یس ربوہ صفحہ 277) ہر رمضان میں ساری دنیا کی ہر بڑی مسجد میں سارا قرآن کریم حافظ لوگ حفظ سے بلند آواز کے ساتھ ختم کرتے ہیں ایک حافظ امامت کراتا ہے اور دوسرا حافظ اس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تا اگر کسی جگہ پر وہ بھول جائے تو اُسکو یاد کرائے۔اس طرح ( اس ایک ماہ میں ہی ) ساری دنیا میں لاکھوں جگہ پر قرآن کریم صرف حافظہ سے دہرایا جاتا ہے۔یہی وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے یورپ کے دشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لیکر آج تک محفوظ چلا آتا ہے اور یہ کہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس شکل میں قرآن کریم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیا کو دیا تھا اُسی شکل میں آج موجود ہے۔(دیباچہ تفسیر القرآن ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ صفحہ 277) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لے کر آج تک ہر دور میں ہزاروں ہزار ایسے حفاظ ہر وقت موجود رہے ہیں جو قرآن کریم کو مکمل طور پر زبانی یا در کھتے ہیں اور سناتے رہتے ہیں اور اپنی نگرانی میں مزید حفاظ تیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ان حفاظ کی تعداد کسی دور میں بھی پہلے سے کم نہیں ہوئی بلکہ ہمیشہ بڑھی ہے۔یہ سلسلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لے کر اب تک جاری ہے۔