اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 33
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 33 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِقْرَاءُ وَارْتَقِ وَرَتِّلُ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا۔(سنن ابی داود کتاب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة) حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا که حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن کریم پڑھتا جا اور درجات میں ترقی کرتا جا اور عمدگی سے پڑھ جیسے دنیا میں عمدگی سے پڑھتا تھا۔تیرا مقام وہ ہے جس آیت پر تو قراءت کو ختم کرے گا۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ اِقْرَأْ وَاصْعَدْ۔فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ حَتَّى يَقْرَأُ اخَرَ شَيْءٍ مَّعَهُ (سنن ابن ماجه كتاب الادب باب ثواب القرآن من اختلاف الرواة) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ حافظ قرآن کو جنت میں داخل ہوتے وقت کہا جائے گا کہ تم قرآن پڑھتے جاؤ اور بلندی کی طرف چڑھتے جاؤ۔پس وہ قرآن کریم پڑھتا جائے گا اور بلندی کی منازل طے کرتا جائے گا کیونکہ ہر ایک آیت کے بدلے اس کے لیے ایک درجہ ہوگا یہاں تک کہ آخری آیت کے پڑھنے تک جو اسے یاد ہو گی وہ بلندی کی طرف چڑھتا جائے گا۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم : إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِّنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ (سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن باب فضل من قرأ القرآن حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جس نے قرآن کریم کا کوئی حصہ بھی حفظ نہیں کیا وہ ویران گھر کی طرح ہے۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حافظ قرآن کو حفاظت قرآن کے باب میں بھی خبر دار کیا کہ: عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَوْسِ الثَّقَفِي عَنْ جَدِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم قِرَاءَةُ الرَّجُلِ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ