اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 292
الذكر المحفوظ 292 نے بھانپ لیا اور جب جوق در جوق عرب کے مختلف قبائل حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے تو آپ نے قرآن کریم کی معنوی حفاظت اور کثرت اشاعت کے لیے الہی منشاء اور اجازت کے تحت قرآن کریم مختلف قراء توں میں سکھایا تا کہ مختلف عرب قبائل اپنی اپنی آسانی کے مطابق قراءت اختیار کر لیں اور زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تعلیمات سے روشناس ہوں اور تا کہ قرآن کریم کی تعلیمات کی کثرت سے اشاعت ہو جائے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ قرآن کریم کی تفہیم اور درست تفسیر کے لیے قراءت ایک اہم ذریعہ ثابت ہونے لگی۔چنانچہ اسی فائدہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری قراءت کو حدیث صحیح کے قائمقام قرار دیا۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410) چنانچہ اس قسم کے لغوی اختلاف کو بھی مخالفین اور مستشرقین اپنی جہالت سے یا دھوکہ کی غرض سے سادہ لوح لوگوں کو بہکانے کے لیے پیش کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم کی معنوی حفاظت کے لیے اور نئے عربی مسلمانوں کی آسانی کے لیے عین مناسب تھا کہ ابتداء میں ہر قبیلہ کو اس کی زبان کے معانی کے مطابق قرآن کریم کے وہ الفاظ جو ان کے لیے سمجھنے یا ادا کرنے مشکل تھے یا ان کے قبیلہ میں ان الفاظ کے معانی اُن معانی سے مختلف تھے جن معانی میں یہ الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہو رہے تھے تو اُن الفاظ کے مترادف الفاظ سکھا دیے جاتے۔اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی اجازت اور منشاء کے تحت ایسا ہی کیا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو نومسلم عرب میں قرآن کریم کی تعلیم اتنی سرعت سے نہ پھیلتی جتنی سرعت سے پھیلی۔گزشتہ سطور میں درج روایات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کو حفاظت قرآن کا کس قدر خیال تھا اور کس توجہ سے وہ قرآن کریم کی تلاوت سنتے تھے اور کس طرح چھوٹی سی چھوٹی اونچ نیچ بھی فور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کور پورٹ کی جاتی تھی۔پھر یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مختلف قراءتوں میں تلاوت کی اجازت دینے کی وجہ محض یہ تھی کہ عربوں کو قرآن سیکھنے اور سکھانے میں آسانی مہیا کی جائے۔جہاں بھی اختلاف کی صورت پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا وہاں صحابہ فوراً رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فیصلہ لے لیتے۔رسول کریم قراءتوں کے اختلاف کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ اختلاف کرنے سے روکتے تھے۔کیونکہ عربی ماحول میں یہ اختلاف کوئی اختلاف نہیں تھا۔اختلاف قراءت کے حوالہ سے یہ حقیقت بھی مد نظر رہنی ضروری ہے کہ اس کی اجازت اس وقت دی گئی جس وقت تک تقریباً مکمل قرآن کریم نازل ہو جا چکا تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی تحریری صورت میں اور حفظ کے ذریعہ محفوظ ہو چکا تھا۔اس اجازت کے بعد بہت قلیل حصہ نازل ہوا۔اگر ہم حتمی طور پر اس اجازت کے وقت کی تعیین کرنا چاہیں تو سب سے پہلے تو یہ مد نظر رکھنا ضروری ہوگا کہ مکی دور میں اختلاف قراءت کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا۔چنانچہ مکی دور میں اسلام قبول کرنے والے کبار صحابہ، مثلاً حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ نے اختلاف قراءت پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مدنی دور میں فیصلہ لیا تھا اور اُن