اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 293 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 293

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 293 واقعات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس اجازت سے بالکل نابلد تھے اور اس پر بہت حساس رویہ دکھایا تھا۔مدنی دور میں یہ اجازت کب ہوئی اس کا بہت محتاط اندازہ حضرت عمرؓ کے حوالہ سے تاریخ میں مذکور اختلاف قراءت والی روایت سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔حضرت عمر کو پہلی مرتبہ اختلاف قراءت کا علم حضرت حکیم بن ہشام بن حزام کے سورۃ الفرقان کی تلاوت کرنے سے ہوا۔یہ نہایت مستند اور معتبر روایت ہے اور بخاری اور مسلم دونوں میں درج ہے۔حضرت حکیم بن ہشام بن حزام نے نو ہجری میں اسلام قبول کیا۔اس معلوم ہوا کہ یہ واقعہ نو ہجری کے بعد کا ہے جب کہ پہلی مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم میں اختلاف قراءت کا مسئلہ آیا۔اب تاریخ اسلام سے واقف شخص جانتا ہے کہ حضرت عمر ہمہ وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور یہ ناممکن تھا کہ قرآن کریم کے حوالہ سے کسی نئی بات کا آپ کو دیر سے علم ہوتا۔پس یہ واقعہ لازماً اس اجازت کے فوراً بعد کا ہی ہے۔نیز یہ بھی مد نظر رہے کہ حضرت حکیم بن ہشام بن حزام کے قبول اسلام کے فوراً بعد اگر آپ سے تلاوت قرآن کریم میں کسی قسم کی غلطی ہوتی تو بطور نو مسلم حضرت عمرؓ آپ سے نرمی کا رویہ اختیار کرتے مگر ایسا نہیں ہوا۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ آپ کے قبول اسلام سے کافی بعد کا ہے۔اس پر ایک قرینہ یہ بھی قائم ہوتا ہے کہ سورۃ الفرقان لمبی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔پس حضرت حکیم بن ہشام بن حزام کو اسلام قبول کیے ہوئے اتنی دیر ضرور ہو چکی تھی کہ آپ نے قرآن کریم کی یہ لمبی سورت یاد کر رکھی تھی۔بہر حال زیادہ سے زیادہ اس اجازت کا زمانہ نو ہجری ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اور قرین قیاس ہے کہ نو ہجری کے بھی کافی بعد یہ اجازت ہوئی ہو لیکن اس سے پہلے نہیں۔یعنی ساڑھے بائیس سال سے زائد عرصہ نزول میں سے اکیس سال سے زائد عرصہ تک ایک ہی قراءت میں پڑھا جاتا تھا اور ان اکیس سالوں میں تقریباً سارا قرآن کریم نازل ہو چکا تھا۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے عرب کے مختلف قبائل کی لغات میں بے شک فرق تھا اور اس وجہ سے قرآن کریم کی قراءت میں فرق کرنے کی اجازت بہت معقول لگتی ہے مگر حضرت عمرؓ اور حضرت حکیم بن ہشام کے اختلاف کا تعلق اس اجازت سے نہیں ہوسکتا۔کیونکہ حضرت عمر اور حضرت حکیم بن ہشام، دونوں ایک ہی قبیلہ کے تھے اور اُن دونوں کی زبان میں یہ فرق نہیں ہو سکتا۔پس اُن دونوں کے اختلاف کا قراءت کے فرق سے تعلق نہیں ہوسکتا۔اس ضمن میں یہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اختلاف قراءت کی اجازت اُس وقت ہوئی جب کہ کثرت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے تھے۔اسی دور میں حضرت حکیم بن ہشام نے بھی اسلام قبول کیا۔پس عین ممکن ہے کہ آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس وقت سورۃ الفرقان سیکھی ہو جب کہ آپ کسی دوسرے قبیلہ کے مسلمان ہونے والوں کو سکھا رہے ہوں۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف قبائل کے کثرت سے قبول اسلام اور مدینہ میں اُن کے نمائندوں کے کثرت سے