اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 213
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 213 معمولی تھی کہ مخالفین کو پوری پوری مہلت حاصل تھی کہ نئی آیات نازل ہونے سے پہلے سابقہ نازل شدہ آیات کے بارہ میں مکمل تحقیق کرلیں اور ان کی خاموشی اس بات کی شہادت تھی کہ قرآن مذہبی کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانہ کی مستند ترین تاریخ بھی ہے۔چنانچہ زمانہ حال کے مستشرقین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ قرآن اپنے زمانہ کے بارہ میں جو بات کرتا ہے وہ لازماً درست ہے کیوں کہ قرآن کریم تو سچا ہونے کا دعویدار ہے پس ہو نہیں سکتا کہ مخالفین کے سامنے کوئی غلط اور خلاف واقعہ بات بیان کرے اور ہمعصر مخالفین خاموش رہیں۔اس پر اعتراض تو لاز ما ایک جاہل زبان ہی کر سکتی ہے یا پھر اس اعتراض کی بنیاد مذہبی تعصب اور دشمنی ہوگی اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ان آیات کو ترتیب نزول سے ہٹ کر ایک مختلف ترتیب پر لکھوانے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ترتیب نزول کا تعلق صرف نزول کے دور سے ہے۔قرآن کریم تحریر اور حفظ اسی ترتیب سے کیا گیا تھا جو دائمی تھی اور آج بھی وہی ترتیب ہے اور یہ ترتیب خدا تعالیٰ کی راہنمائی میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرائی ہی لگوائی گئی تھی۔یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم کی اصل ترتیب قائم نہیں رکھی گئی بلکہ آئندہ زمانہ کی ضروریات کے مطابق کر دی گئی تو پھر اس کی عبارت سے وہ حسن معدوم ہو گیا ہوگا جو کہ ایک با ربط اور مربوط کلام کا خاصہ ہوتا ہے۔اس سوال کے جواب میں پہلے تو ہم گزشتہ اوراق میں بیان شدہ اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب خدا تعالیٰ ہی کی قائم فرمودہ ہے۔پس اپنے تمام تر کاموں میں اعلیٰ درجہ کا حسن اور خوبصورتی اور توازن قائم رکھنے والی ہستی نے اپنے کلام میں بھی اس خصوصیت کو بدرجہ اتم بھر دیا ہے۔جس کا ہر زمانہ کے عربی زبان کے اہل کمال اقرار کرتے آئے ہیں۔قرآن کریم کا حسن بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اعلیٰ وارفع اُسلوب بیان کے لیے حسن کا لفظ اختیار کیا ہے اور صرف یہی نہیں کہ قرآن کریم نے اپنے کلام کو صرف حسین کہا ہے بلکہ سب سے زیادہ حسین کہا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِي (الزمر:24) یعنی اللہ نے بہترین بیان ایک ملتی جلتی ( اور ) بار بار دہرائی جانے والی کتاب کی صورت میں اتارا ہے۔