اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 195
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 195 ابوبکر بن انباری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سارا ایک ہی بارسماء دُنیا پر نازل کیا اور پھر اسے بیس سے زائد برسوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے حسب موقع آیت آیت اور سورت سورت کر کے نازل کیا۔جبریل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آیات اور سورتوں کی ترتیب بتاتے تھے۔پس سورتوں کی ترتیب بھی آیات اور حروف کی ترتیب کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی منسوب ہے اور جو بھی کسی ایک بھی سورۃ کو آگے یا پیچھے کرے گا تو وہ قرآن کریم کا حسنِ نظم خراب کرے گا۔پس یہ امر واضح ہے کہ تالیف قرآن، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی اور نگرانی میں آپ کی حیات مبارکہ میں ہی صحابہ نے کر دی تھی، اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا راہنما خود خدا تھا اور ترتیب کے بارہ میں کبھی بھی کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہوا تھا، بلکہ اجماع ہوا تھا۔آخر میں سورتوں کی ترتیب کے تو قیفی ہونے پر ایک اور مضبوط اور نا قابل تردید ثبوت پیش کر کے آگے بڑھتے ہیں : قرآن کریم کی احزاب یا منازل میں تقسیم ترتیب سور کے تو قیفی اور غیر مبدل ہونے ایک بہت بڑا اور نا قابل تردید ثبوت قرآن کریم کی احزاب اور منازل میں تقسیم ہے۔قرآن مجید سات احزاب ( منازل ) میں تقسیم ہے۔یہ تقسیم قرآن مجید کی تلاوت کا دور ایک ہفتہ میں مکمل کرنے کی غرض سے ہے۔اس بات کی قطعی ثبوت ملتے ہیں کہ منازل کی یہ تقسیم صحابہ کرام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی مروج تھی۔جس سے ترتیب سور کا ایک اہم ثبوت ملتا ہے۔علاوہ ازیں اسی روایت کے مطابق اجزاء یعنی پاروں کی تقسیم بھی ارشاد نبوی کی روشنی میں صحابہ کرام سے ہی منسوب ہے۔چنانچہ روایت ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِقْرَا الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَاقْرَأَهُ فِي سَبْعِ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَالِكَ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب في كم يقرا القرآن) حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ قرآن کریم کا ایک دور ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔اس پر میں نے عرض کی کہ میں تو اپنے اندر اس سے بھی جلد دور مکمل کرنے کی ہمت پاتا ہوں۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ میں ایک دور مکمل کیا کرو اس سے کم وقت میں نہیں۔صحابہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی تعمیل میں آپ کے دور مبارک میں ہی قرآن کریم کو