اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 190 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 190

الذكر المحفوظ 190 جاتا تھا اور حفظ کیا جاتا تھا اور صحابہ کی ایک جماعت عبد اللہ بن مسعود اور ابی بن کعب وغیرہ نے چند مرتبه قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ختم کیا اور ان باتوں پر ادنی تامل اور تفکر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم مدون و مرتب ہے اور غیر مرتب نہیں ہے۔اور یہ بات بھی یا در کھنے کے قابل ہے کہ امامیہ اور حشویہ میں سے جن لوگوں نے اس رائے کی مخالفت کی ہے ان کی باقی لوگوں کے مقابل میں کوئی حقیقت اور شمار نہیں ہے کیونکہ یہ اختلاف صرف اصحاب حدیث کے ضعیف خبریں نقل کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔اس کے بعد علامہ آلوسی اپنی تائید میں علامہ ابوبکر الانباری اور علامہ کرمانی وغیرہ کا قول درج کرتے ہیں۔علامہ ابوبکر انباری کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سارا قرآن سماء دنیا تک اتارا پھر ہیں سے زائد برسوں میں مختلف حصوں میں تقسیم کر کے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا۔جب کوئی معاملہ وقوع پذیر ہوتا تو مسئلہ کی وضاحت کے لیے کوئی سورت نازل ہو جاتی یا کوئی شخص کوئی سوال پوچھتا تو اس کے جواب کے لیے کوئی آیت اترتی اور جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس آیت یا سورۃ کی ترتیب کے لحاظ سے جگہ بتاتے۔یوں ترتیب قائم ہوتی گئی۔پس اب اگر کوئی اس ترتیب میں سے کسی حصہ کو آگے پیچھے کرے گا تو قرآن مجید کے مضامین کے ربط کو توڑ دے گا۔اور علامہ کرمانی کا قول ہے کہ سورتوں کی جو ترتیب اب ہے یہی ترتیب اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں بھی ہے اور اسی ترتیب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر سال جبریل کے ساتھ اس حصہ کا دور فرمایا کرتے تھے جو اس وقت تک جبریل علیہ السلام کے ذریعہ آپ پر نازل ہو چکا ہوتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری سال جبریل علیہ السلام کے ساتھ اسی ترتیب کے مطابق دو دفعہ دور مکمل فرمایا۔نیز طیبسی نے بھی یہی کہا ہے اور علما کے ایک جم غفیر سے بھی یہی قول مروی ہے۔(ابوالفضل بن الحسن الطبرسی مجمع البیان جلد اول: مقدمة الكتاب: الفن الخامس: جمع القرآن صفحه 15 الناشر مكتبه علميه الاسلاميه ملتان) تفسیر خازن میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اسی ترتیب سے صحابہ کو سکھایا تھا جوتر تیب جبریل نے سکھائی تھی۔(تفسير خازن الجزء الأول مقدمة الكتاب صفحه 9) صاحب البرہان نے اس بارہ میں امام بیہقی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: