اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 176 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 176

الذكر المحفوظ 176 حفاظت کے لیے ایسے اعلیٰ نمونے دکھائے کہ تاریخ ان سے پہلے ان نمونوں کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔انہوں نے ایسے ایسے ہولناک مظالم برداشت کیے کہ پڑھ کر ہی انسان کی روح تک میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔5- کثرت اشاعت کی وجہ سے اپنے اور بیگانے سب گواہ بن جاتے تھے۔اس لیے کسی بھی تبدیلی کی صورت میں مخالفین شور مچادیتے۔6- ناصرف یہ کہ مخالفین شور مچا دیتے بلکہ آپ پر ایمان لانے والے صحا بہ بھی فوری طور پر آپ کے مخالف ہو جاتے کیونکہ وہ آپ پر اسی لیے تو ایمان لائے تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔صلح حدیبیہ کی مثال گزر چکی ہے کہ ادنی سی غلط فہمی ہوئی اور کس طرح صحابہ بے چین ہو گئے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے مبارک الفاظ سے اس موضوع کو ختم کر کے آگے بڑھتے ہیں: لازم ہے کہ جو شخص اپنے تئیں منصف سمجھتا ہے اب وہ اپنا انصاف دکھاوے اور جو اپنے تیں حق کا طالب جانتا ہے اب وہ حق کے قبول کرنے میں توقف نہ کرے ہاں نفسانی آدمی کو ایسی صداقت کا قبول کرنا جس کے ماننے سے اس کی شیخی میں فرق آتا ہے ایک مشکل امر ہو گا مگر اے ایسی طبیعت کے آدمی !! تو بھی اس قادر مطلق سے خوف کر جس سے آخر کار تیرا معاملہ ہے اور دل میں خوب سوچ لے کہ جو شخص حق کو پا کر پھر بھی طریقہ ناحق کو نہیں چھوڑتا اور مخالف پرضد کرتا ہے اور خدا کے پاک نبیوں کے نفوس قدسیہ کو اپنے نفس امارہ پر قیاس کر کے دنیا کے لالچوں سے آلودہ سمجھتا ہے حالانکہ کلام الہی کے مقابلہ پر آپ ہی جھوٹا اور ذلیل اور رسوا ہورہا ہے ایسے شخص کی شقاوت اور بدبختی پر خود اس کی روح گواہ ہو جاتی ہے کہ جو اس کو ہر وقت ملزم کرتی رہتی ہے اور بلاشبہ وہ خدا کے حضور میں اپنی بے ایمانی کا پاداش پائے گا کیونکہ جوشخص نہایت سخت اور جلانے والی دھوپ میں کھڑا ہے وہ ظل ظلیل کا آرام نہیں پاسکتا۔“ (براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد اول صفحہ 353,354 ایڈیشن اول صفحہ 304 )