اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 177 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 177

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 177 ترتیب قرآن کریم قرآن کریم کوئی عام کتاب نہیں بلکہ الہی کلام ہونے کی وجہ سے عام کتب سے منفر داور ممتاز حیثیت کی حامل ہے لہذا قرآنی فرمودات کی ترتیب اور اس کے اسلوب کا بھی اپنا دستور ہے جو عام کتب کے دستور بیان سے مختلف اور فی ذاتہ منفرد اور ممتاز ہے۔ترتیب قرآن کریم کے موضوع کے دو بنیادی پہلو ہیں۔اول : قرآن کریم کی آیات اور سورتوں کی ظاہری ترتیب کا تاریخی پہلو دوم : قرآن کریم کی معنوی ترتیب اور اس کا اسلوب بیان معترضین بھی عام طور پر دو قسم کے اعتراضات کرتے ہیں۔ایک قرآن کریم کی ظاہری ترتیب پر اور دوسرا اس کی ترتیب مضامین اور اسلوب بیان پر۔جبکہ اہل فکر جن میں مسلمان بھی شامل ہیں اور غیر مسلم بھی ، قرآن کریم کی معنوی ترتیب اور اس کے اسلوب بیان پر غور وفکر کرتے ہیں۔قرآن کریم ظاہری طور پر آیات (Verses)، رکوع ( Ruku)، سورتوں (Chapters) اور اجزا (Parts) میں منقسم ہے۔اس تقسیم میں آیات اور سورتوں کی ترتیب الہی راہنمائی اور منشاء کے مطابق حضرت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگرانی میں لگوائی تھی جس میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔آیات اور سورتوں کی ظاہری ترتیب کے لحاظ سے بھی قرآن کریم تمام دُنیا کی کتب میں ایک ممتاز اور الگ مقام رکھتا ہے۔ترتیب کے حوالہ سے ایک حقیقت بہت غیر معمولی ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب وہ ترتیب نہیں ہے جس میں یہ نازل ہوا تھا بلکہ وہ ترتیب محض اُس دور کے مطابق تھی جس دور میں قرآن کریم نازل ہو رہا تھا۔نزول کے ساتھ ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی راہنمائی میں اس کو اس دائگی ترتیب میں مرتب کرواتے رہے جو کہ آئندہ زمانے کے لیے مناسب اور ضروری تھی اور جو آج رائج ہے۔اس ترتیب میں آیات کی ترتیب بھی شامل ہے اور سورتوں کی ترتیب بھی۔قرآن کریم اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: إِنَّ عَلَيْنَا جَمُعَهُ وَ قُرْآنَهُ (القيامة : 18) یعنی اس قرآن کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔ترتیب آیات جہاں تک آیات کی ترتیب کا تعلق ہے تو تمام مسلمان متفقین اس بات پر متفق ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات کی ترتیب اپنی نگرانی میں خود مقر فرمائی تھی نیز یہ کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ قرآن مجید کی ترتیب