اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 149
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 149 کہ جنت صرف مومنوں کو ملے گی نیز سب کو نماز کے لیے بلانے کا ارشاد فرمایا جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن کریم میں حرام کر دیا ہے اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں مگر یا درکھو اس کے علاوہ بھی مجھے اوامر و نواہی دیئے گئے ہیں۔سنو! اللہ تعالیٰ تمہیں بلا اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے اور ان کے پھل کھانے کی اجازت نہیں دیتا جب کہ وہ اپنا حق ادا کر رہے ہوں جوان کے ذمہ ہے۔(زرقانی جلد ۲ صفحہ ۲۲۶) بخاری کی حدیث کے مطابق واقعہ یوں ہے کہ جب آپ کو علم ہوا کے بعض لوگوں نے مال غنیمت کی تقسیم سے قبل خیبر کے کچھ جانور پکڑ کر ذبح کر لیے ہیں اور ان کا گوشت پکایا جا رہا ہے آپ نے فوراوہ ہانڈیاں تو ڑ دینے اور گوشت کو گرا دینے کا حکم دیا۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة خيبر) سنن ابی داؤد میں اس عظیم اسوہ کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے: عن عاصم بن كـلـيـب عن ابيه عن رجل من الانصار قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فاصاب الناسُ حاجة شديدة وجهدًا فاصابُوا غَنَمًا فانتَهَبوها فَإِنَّ قُدُورَ نَا لَتُغْلَى إِذْ جَاءَ رَسولُ الله صلى الله عليه وسلم يَمْشِي بِإِكْفَاءِ الْقُدور لِقَوْسِهِ ثم جَعَل يَرْمِلُ اللَّحْمَ بِالتُّرابِ ثم قال إنّ النُّهْبَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ ( سنن ابی داؤد كتاب الجهاد باب في النهى عن النهبة اذا كان في الطعام۔۔۔) یعنی عاصم بن کلیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی بیان کرتے تھے کہ ایک غزوہ میں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک موقعہ پر لوگوں کو بہت سخت بھوک لگی اور سخت مصیبت میں مبتلا ہو گئے انہوں نے ایک بکریوں کا ریوڑ دیکھا اور اس میں سے چند بکریاں پکڑلیں اور ذبح کر کے انکا گوشت پکا نا شروع کر دیا۔گوشت ابھی ہانڈیوں میں پک رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔آپ نے آتے ہی اپنی کمان سے ہماری ہانڈیوں کو الٹ دیا۔آپ بوٹیوں کو مٹی میں مسلتے جاتے اور ساتھ ساتھ فرمارہے تھے کہ لوٹ کا مال اسی طرح حرام ہے جیسا کہ مردار یا اس سے بھی بدتر ہے۔کیا ہی عجیب نظارہ ہے فاتحین بھوکے ہیں اور مفتوح قوم آرام سے ہے۔یوں آپ نے مسلمانوں کے جذبات ، ان کی بھوک اور فاقہ کی قربانی تو دے دی لیکن مفتوح قوم کے اموال جن کی حفاظت کی ذمہ داری اب آپ پر تھی، کماحقہ ادا کی اور امانت اور دیانت کو قربان کرنا گوارا نہ کیا۔ساتھ ہی یہ سبق بھی دے دیا کہ اسلامی جنگوں کی بنیاد محض خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی ہے نہ کہ کوئی دنیوی منفعت۔اس لیے کوئی مجاہد