اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 148
الذكر المحفوظ 148 فتوحات کے بعد کی زندگی آنحضور کے رد و بدل نہ کرنے پر دلیل ہے بعض مستشرقین یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تمام اخلاق محض غلبہ اور کامیابی کے حصول تک ایک دکھا وایا کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک ذریعہ اور ایک قسم کا اسلحہ تھے۔اس لیے وہ وقت بھی تو دیکھیں کہ جب آپ کو فتوحات ملنا شروع ہوئیں تو اس وقت آپ کا رویہ کیا تھا؟ کیونکہ اگر یہ سب کچھ محض غلبہ اور حکومت حاصل کرنے کے لیے تھا تو پھر فتح کے بعد آپ کا رویہ بدل گیا ہوگا۔آنحضور کی سوانح حیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی فتح کے بعد کی زندگی بھی اس وسوسہ کو ایسا دور کرتی ہے کہ اس کی دھجیاں بھی نہیں ملتیں۔چنانچہ جب آپ فاتح شہنشاہ کے روپ میں دُنیا کے سامنے آتے ہیں تو اس وقت بھی آپ کے اخلاق کریمانہ آپ کے ہر فعل میں بدرجہ اتم نظر آتے ہیں۔یہاں تک کہ غزوات جیسے نازک مواقع پر بھی آپ کے اخلاق فاضلہ کی عمدہ مثالیں اسی آب و تاب سے سامنے آتی ہیں۔فاتحسین عالم کے حالات پڑھ کر دیکھیے۔حالت جنگ میں کہیں آپ کو آبادیاں ویران اور قلعے مسمار ہوتے نظر آئیں گے تو کہیں انسانی لاشوں کے ڈھیر دکھائی دیں گے۔کہیں انسانی کھوپڑیوں کے مینار نظر آئیں گے تو کہیں عزت و عصمت کی بربادی کے قبیح اور قابل شرم نظارے۔قرآن کریم جنگ کے بعد کے حالات کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے: قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ وَّ كَذلِكَ يَفْعَلُونَ) (النمل: 35) یعنی جب بادشاہ فاتحانہ حیثیت سے کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اور اس کے باعزت لوگوں کو ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں اور ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نازک مواقع پر اپنے عملی نمونہ سے جو عظیم درس دیے ان میں امانت، بے مثل دیانت اور صداقت بھی شامل تھی۔فتح خیبر کے موقع پر قلعہ ناعم کے ایک یہودی سردار نے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر بعض مسلمانوں کی شکایت کی کہ مسلمان ہمارے جانور ذبح کر کے کھا رہے ہیں، ہمارے پھل اجاڑ رہے ہیں اور ہماری عورتوں پر بھی سختی کی جارہی ہے۔دشمن ہونے کے باوجود یہ یہودی منصف مزاج رسول اللہ سے انصاف کی توقع لے کر آیا تھا۔پھر کیا نتیجہ نکلا ؟ کیا آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ جواب دیا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اور جنگ کا یہی دستور ہے؟ نہیں ! بلکہ آنحضرت سے اس یہودی کی یہ سچی توقع پوری بھی ہوئی اور نبی کریم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا کہ گھوڑے پر سوار ہو کر یہ اعلان کریں