اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 79 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 79

عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 79 اسے فلاں سورت کی فلاں آیت سے پہلے یا بعد میں رکھا جائے یا یہ آیت کسی نئی سورت کی ہے جس کی ابتدا ہو رہی ہے۔پس ترتیب کے اس فرق کی وجہ سے بعد میں نازل ہونے والی وحی بطور ضمیمہ یا دوسری جلد کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی تھی اس لیے یہ ناممکن تھا کہ جتنا ایک وقت تک نازل ہو چکا ہو اسے مجلد کتابی صورت میں پیش کیا جا سکے۔پس یہ محال تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم کو ایک مجلد کتاب کی شکل میں دُنیا کے سامنے پیش کر دیا جاتا۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور مبارک میں جمع قرآن اور تدوین قرآن کا فریضہ جہاں تک ممکن تھا مکمل طور پر سر انجام دیا جا چکا تھا اور جو ایک جلد میں جمع نہ کرنا تھا وہ بھی کسی کوتاہی پر دلالت نہیں کرتا بلکہ ایک ناممکن العمل فعل تھا اس لیے نہ کیا گیا۔خدا تعالیٰ نے یہ کام خلافت کی نگرانی میں صحابہ کے ہاتھوں کرایا اور خلافت تو آتی ہی نبی کی خوبو پر ، نبی کے ہی کام کو جاری رکھنے اور آگے بڑھانے کے لیے ہے۔اب جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ وحی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور قرآن کریم کی مزید آیات نازل نہیں ہونگی کیونکہ ان کا نزول آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذاتِ والا صفات سے ہی خاص تھا اس لیے اب بہت ہی مناسب بات تھی کہ قرآن کریم کو ایک کتاب کی شکل میں اکٹھا کر لیا جائے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرآن کریم کو ایک جلد کی شکل میں اکٹھا نہ کرنے کی حکمت کے بیان کے ضمن میں ہی ایک اور بات کی مختصر وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے جو بعض علماء بلا سوچے سمجھے پیش کرتے ہیں۔مثلاً الاتقان وغیرہ نے الخطابی کا یہ قول نقل کیا ہے۔خطابی کا کہنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سارے قرآن کو ایک ہی جلد میں اس لیے جمع نہیں کیا کہ آپ کو اس کی بعض آیات کے احکام یا ان کی تلاوت کے نسخ کے نزول کا انتظار تھا۔مگر جب آپ کی وفات سے قرآن کا سلسلہ ختم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس سچے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے جو اس نے اُمت محمدیہ کی حفاظت کے متعلق فرمایا تھا خلفاء راشدین کو الہام کیا کہ یہ کام کیا جائے۔چنانچہ اس کام کا آغاز حضرت عمرؓ کے مشورہ سے حضرت ابوبکر کے ہاتھوں ہوا۔الاتقان فی علوم القرآن جزء اول صفحہ 85) مندرجہ بالاسطور میں الخطابی کا یہ کہنا کہ بعض آیات کے نسخ نزول کا انتظار تھا، عجیب بات ہے۔نسخ کے عقیدہ پر بحث آئندہ سطور میں کی جائے گی یہاں یہ بحث اصل مضمون سے دور لے جائے گی۔ہم صرف یہ پوچھتے ہیں کہ یہ نتیجہ کہاں سے نکل آیا کہ نسخ کا انتظار تھا اس لیے مجلد کتاب کی شکل میں دینا ناممکن تھا؟ یہ خیال کیسے درست