اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 70
الذكر المحفوظ 70 وقت کے معا بعد اس الہی امانت کو بنی نوع کے سپرد کرنے کے وقت تک جو کہ انتہائی مختصر ہوتا تھا کوئی آیت بھول جاتے؟ یہ وقت تو بعض اوقات اتنا مختصر ہوتا کہ چند لمحات کا وقفہ ہوتا۔محفل میں آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ نے اس الہی امانت کو ایک قوم کے سپرد کر دیا۔ایک ایسی قوم کے سپر د کیا جس کے غیر معمولی حافظہ کے بارہ میں کسی مؤرخ کو کلام نہیں۔گزشتہ میں یہ ذکر بھی گزرچکا ہے کہ یہ بات ہمعصر مخالفین نے بھی نوٹ کی کہ قرآن کریم فوری طور پر تحریری شکل میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اس کا ذکر بھی کیا۔قرآن کریم مخالفین کے اس اقرار کا ان الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْاَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الفرقان:6) ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو گزشتہ لوگوں کے قصے ہیں جو اس نے لکھوا لیے ہیں اور دن رات اس کے سامنے ان کی املا کروائی جاتی ہے۔واضح طور پر ذکر ہے کہ مخالفین کو علم تھا کہ دن رات قرآنی وحی کی تحریر کا کام ہوا کرتا تھا اور یہ بھی علم ہوا کہ خواہ کسی بھی وقت وحی الہی نازل ہوتی تھی ، رات یا دن فوری طور پر ضبط تحریر میں لائی جاتی تھی۔رات ہوتی تو دن کا انتظار نہ کیا جاتا اور دن ہوتا تو رات کا انتظار نہ کیا جاتا۔پس اس مختصر سے عرصہ میں کیسے غلطی ہو سکتی تھی؟ نیز یہ بھی سوچنا چاہیے کہ نزول کے وقت سے لے کر محفوظ کرنے کے وقت کے درمیان جو انتہائی کم عرصہ ہوتا تھا اس معمولی عرصہ میں بھی اپنے کلام کی حفاظت کا ذمہ دار وہی خدا تھا جس نے بعد کے زمانوں میں اس کی حفاظت کی۔پس اگر بعد میں کوئی تبدیلی ثابت نہیں اور تمام ثبوت اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو پھر اس مختصر وقت میں وہ خدا کیوں حفاظت نہ کرتا جو پندرہ سو سال سے حفاظت کرتا چلا آ رہا ہے؟ پھرا بن وراق کہتا ہے کہ: ہو سکتا ہے کہ صحابہ قرآن کا کوئی حصہ بھول گئے ہوں“ اس سوال کا بھی اتنا جواب ہی کافی ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو ثبوت لاؤ۔بلا ثبوت محض اندازے کون نہ کرے گا۔تمہارا شک غلط اور بے بنیاد ہے اور محض ایک حسرت ہے جو اندھے تعصب اور جہالت کا نتیجہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہو نہیں سکا۔قرآن کریم غیر ذمہ دار کھلنڈرے بچوں کے ہاتھ میں تو نہیں تھمایا گیا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ ہو گیا ہو ہو سکتا ہے وہ ہو گیا ہو۔کلام الہی تو انتہائی ذمہ داری اور محبت کے ساتھ حفاظت کے تمام ممکنہ تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس طرح محفوظ کیا جارہا تھا کہ کسی قسم کی بھول چوک اور ایسی غلطی محال تھی جو اورں کی نظروں میں آنے سے رہ جاتی۔پہلے کتابت ہوتی پھر حفظ کیا جاتا۔پس اگر اس امر محال کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ سینکڑوں صحابہ یکا یک کوئی آیت بھول گئے تو اس سے تو شور پڑ جانا چاہیے تھا۔پھر اگر ایسا ہوا ہوتا تو کیا تحریرات