اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 31 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 31

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 31 انداز میں ذکر کرتے ہیں۔عربوں کا نسب نامے یادرکھنا، ایک ایک شخص کو ہزاروں ہزار شعر یاد ہونا، شعر وسخن کی مجالس میں شعر سنانا وغیرہ بہت معروف پہلو ہیں۔پس اس شان کے حافظہ کے ساتھ اس درجہ امانتدار لوگ قرآن کو ایسی حالت میں حفظ کر رہے ہیں کہ عام نسب ناموں اور شعر و شاعری سے کہیں زیادہ قرآن کریم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اور محبت کو بنیاد بناتے ہوئے اس کے ایک ایک لفظ کو اپنی نجات کا سامان اور الہی امانت سمجھتے ہیں جسے آگے منتقل کرنا اپنی اولین ذمہ داری گردانتے ہیں۔پھر قرآن کریم تحریری صورت میں بھی موجود ہے۔تو کوئی بھی غلطی یا دانستہ تحریف کس طرح راہ پا سکتی ہے؟ پھر یہ بھی دیکھئے کہ روایات تو اس کثرت سے سنائی نہ جاتی تھیں جس کثرت سے قرآن کریم کی درس و تدریس اور تلاوت ہوتی تھی۔پس قرآن کریم کسی بھی صورت میں بھلا دیا جائے یہ ناممکن ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک ایک ایسے تواتر کے ساتھ حفاظ آئندہ نسل کو قرآن کریم حفظ کراتے چلے آئے ہیں جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے اور پھر قرآن کریم کی تحریر سے اپنے حفظ کو مستند بناتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ اس تواتر کے باقاعدہ اہتمام کا ذکر صحابہ کے دور سے ملتا ہے۔کثرت سے اس بارہ میں روایات ملتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حفاظ صحابہ سے قرآن کریم سنتے رہتے تھے۔مثلاً: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ اقْرَأْ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْري (بخاری کتاب فضائل القرآن باب من احب ان يسمع القرآن من غيره) حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید سناؤ۔میں نے حیران ہو کر عرض کیا کہ میں آپ کو قرآن سناؤں! حالانکہ قرآن آپ پر نازل کیا گیا ہے۔حضور نے فرمایا۔دوسرے سے قرآن سننا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔روایات کے مطابق صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کے حفظ کی نگرانی بھی کرتے رہتے۔مثلاً : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوف كَثِيرَة لَمْ يُقْرتْنيهَا رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذه السُّورَةَ الَّتي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ كَذَبْتَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ