اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 28 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 28

الذكر المحفوظ دو 28 اللہ علیہ والہ وسلم بھی حفظ قرآن کی فضیلت پر بہت زور دیتے تھے۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو صحابہ کی ایسی جماعت عطا فرمائی تھی جو آپ کے ہر اشارہ پر عمل کرنے کے لیے جان توڑ کوشش کرتے تھے اور جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔اس لیے آپ کی اس تحریک اور خواہش کی تکمیل کے لیے صحابہ نے حیرت انگیز نمونہ دکھایا۔قرآن کریم بکثرت حفظ کیا جانے لگا۔صحابہ نے اس وارفتگی اور اس شان سے اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں حفاظ صحابہ کی اتنی کثیر تعداد تیار ہوگئی کہ بلا مبالغہ ہزاروں تک ان کی تعداد جا پہنچتی ہے۔کیا بچے کیا جو ان اور کیا بوڑھے ، کیا عورتیں اور کیا مرد،سب حفظ قرآن کے میدان میں بڑھ چڑھ کر عشق و محبت اور اخلاص و فدائیت کے بے نظیر جذبات کے ساتھ معرکے سر کرنے لگے۔حفاظ صحابہ کی کثرت کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ غزوہ احد کے بعد قبیلہ رعل، ذکوان ، عصیۃ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے ایسا نمونہ دکھایا کہ سمجھا گیا کہ یہ لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مدد کی درخواست کی۔آپ نے اس درخواست کو شرف قبولیت بخشا اور صرف انصار مدینہ میں سے ستر (70) حفاظ وقراء کا ایک بڑا گروہ روانہ کر دیا تا کہ ان کے قبیلوں کے لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کروائیں۔یہ حفاظ مدینہ میں قراء کے نام سے مشہور تھے۔ان لوگوں نے راستہ میں دھوکہ دے کر ان حفاظ کو شہید کر دیا (بــــــاری كتاب الجهاد و السير باب العون بالمدد ) صرف انصار مدینہ میں سے ستر (70) حفاظ کا بھیجنا بتاتا ہے کہ کثرت سے حفاظ موجود تھے اور تعلیم القرآن کے سلسلہ میں کثرت سے اساتذہ مختلف قبائل میں جاکر رہا کرتے اور تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔چنانچہ اس واقعہ کے علاوہ اور بھی واقعات ملتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مختلف قبائل میں دس دس پندرہ پندرہ قراء صحابہ کے وفود تعلیم القرآن کے لیے بھیجا کرتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے وقت حفاظ کی کثرت کا یہ حال تھا کہ صرف ایک جنگ یعنی جنگ یمامہ میں شہداء میں صرف حفاظ شہداء کی تعداد سات سو (700) اور بعض کے نزدیک اس سے بھی زیادہ تھی۔چنانچہ بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن میں درج اس واقعہ کے بارہ میں بخاری کی ایک معروف شرح عمدۃ القاری میں لکھا ہے: ربیع الاول اا ھجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس دار فانی سے رحلت فرمائی آپ نے وفات سے قبل تمام قرآن لکھوا دیا تھا مگر وہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا مختلف اصحاب کے پاس بکھرا ہوا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر کا انتخاب بطور خلیفہ اول ہوا اور ابتداء میں ہی آپ کو پے در پے مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں