اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 23 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 23

23 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن فہرست دی گئی ہے جس میں مندرجہ بالا سترہ (17) اصحاب کے علاوہ مزید گیارہ (11) اصحاب حضرت عبداللہ بن سعد ، خالد بن ولید، محمد بن مسلمہ ، عبداللہ بن عبد اللہ بن ابی بن سلول ، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن العاص، جہم بن صلت ، ثابت بن قیس بن شماس ، حذیفہ بن یمان ، عامر بن فہیرہ اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم کے نام شامل ہیں۔( عرض الانوار صفحہ 41 42 43 از قاضی عبد الصمد سیوہاروی مطبوعہ حمید برقی پریس دہلی۔سن اشاعت 1359 طبع اوّل) اس طرح صرف ان تین روایات کو جمع کیا جائے تو کل 128 ایسے معین اصحاب کے نام ثابت ہوتے ہیں جن کو بطورِ خاص کتابت وحی کی سعادت نصیب ہوئی۔محققین خاص طور پر قرآن کریم کی کتابت کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد چالیس تک بیان کی ہے۔عام طور پر تو بہت سے صحابہ ذاتی طور پر قرآن کریم کے نسخے تحریر کیا کرتے تھے۔کاتبین کی تعداد کا اختلاف کوئی ایسا تاریخی اختلاف نہیں کہ جس میں ایک محقق ایک صحابی کے کاتب وحی ہونے کا قائل ہے اور دوسرا محقق اس صحابی کے کاتب وحی ہونے کا قائل نہیں۔بلکہ جس محقق کو تحقیق کے بعد جتنے کاتبین صحابہ کا علم ہوا اس نے ان کے نام درج کر دیے اور جن صحابہ کا اُسے علم نہ ہوا ان کے نام دوسرے محققین نے درج کر دیے۔اُس دور میں رابطہ کی ایسی سہولیات تو میسر نہیں تھیں جیسی آج ہیں کہ ہر محقق کو ہر کا تب کا علم ہوسکتا اور پھر فاصلے زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک محقق دوسرے محققین اور علماء کی تحقیقات سے اس طرح فائدہ بھی نہیں اُٹھا سکتا تھا جس طرح آج کے دور میں اُٹھایا جاتا ہے۔ان صحابہ کے علاوہ بہت سے دیگر صحابہ کے مصاحف مشہور ہیں اور عام طور پر صحابہ کے پاس قرآن کریم کے نسخہ جات بہت عام تھے۔کسی کے پاس کچھ سورتیں لکھی ہوتیں اور کسی کے پاس کچھ صحابہ اپنی اپنی ضرورت، علمیت اور شوق و اخلاص کے مطابق بھی قرآن جمع کرتے مثلاً حضرت عائشہ(بخاری فضائل القرآن باب تاليف القرآن )۔بعض صحابہ اپنے صحائف میں وہ سورتیں درج نہ کرتے جو انکو حفظ ہوتیں اور وہ سورتیں درج کرتے جو حفظ نہ ہوتیں۔اس طرح ایک کی لکھی ہوئی سورتیں دوسرے صحابی کے نسخہ میں موجود نہ ہوتیں بلکہ اس صحابی کے پاس اس کے علم اور ضرورت کے مطابق دوسری چند سورتیں ہوتیں (بخاری کتاب فضائل القرآن باب تعليم الصبیان القرآن۔پھر بعض صحابہ نے بعض آیات کی تفسیر میں آنحضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کچھ سنا ہوتا تو انہیں بطور حاشیہ اپنے صحیفہ میں درج کرلیتے اور یہ علم ہوتا کہ یہ حصہ متن قرآن نہیں ہے بلکہ حاشیہ ہے اور عام علم میں بھی یہ بات ہوتی کیونکہ اکثر لوگوں کو قرآن حفظ تھا اور خلط ملط ہونے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔لیکن پھر بھی آنحضور نے حفاظت قرآن کے ضمن میں کمال احتیاط کا نمونہ دکھاتے ہوئے اپنے فرمودات لکھنے سے منع فرما دیا تا کہ خلط ہونے کا شائبہ بھی ختم ہو جائے۔خلاصہ یہ کہ کبار صحابہ کے پاس ذاتی طور پر تحریر کیے