اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 24 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 24

الذكر المحفوظ 24 ہوئے قرآن کے نسخہ جات موجود تھے، اور بے شمار صحابہ کے پاس اپنے اپنے نسخہ جات موجود تھے جو فی ذاتہ تو نامکمل تھے مگر مجموعی طور پر ان میں سارا قرآن لکھا ہوا تھا۔عہد نبوی میں کتابت قرآن کا طریقہ اور ذرائع عہد نبوی میں عرب میں کاغذ بہت کم دستیاب تھا اور عام طور پر دسترس سے بھی باہر تھا۔اس لیے قرآن کی وحی کاغذ پر بہت کم لکھی گئی۔اکثر حصہ عربوں کے دستور کے مطابق اس مقصد کے لیے مروج مختلف چیزوں پر لکھا گیا۔ان اشیاء کے نام کسی ایک جگہ اکٹھے نہیں ملتے۔بخاری، الاتقان، کتاب المصاحف، عمدۃ القاری اور دیگر کتب میں جو روایات جمع کی گئی ہیں ان سے مندرجہ ذیل نام ملتے ہیں۔ا۔کھجور کی شاخ کے ڈنٹھل ۲۔باریک سفید پتھر کی سلیں۔۳۔اونٹ کے شانہ کی ہڈیاں ۴۔اونٹ کی پسلی کی ہڈیاں ۵۔اونٹ کی کاٹھی کی لکڑیاں۔لکڑی کی تختیاں ے۔چمڑے کے ٹکڑے ۹۔پتلی جھلی۔۔کھال ۱۰۔کاغذ گزشتہ صفحات میں روایات درج کی جاچکی ہیں جن سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں کہ جونہی کوئی آیت نازل ہوتی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فوری طور پر کسی کا تب و بلا کر لکھوا دیتے۔کاتبین وحی جب آیت لکھ لیتے تو آپ پہلے پڑھوا کے سنتے چنانچہ زید بن ثابت کا بیان ہے کہ فان كــان فـيـه سقط اقامه ، یعنی اگر کوئی غلطی ہوتی تو اس کی تصحیح کروا دیتے اور حفظ پر مقر صحابہ کو فورا اپنی نگرانی میں حفظ کروا دیتے جو آگے دیگر صحابہ کو حفظ کرواتے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا۔صحابہ کرام کثرت کے ساتھ فوری طور پر نئی آنے والی وحی کو حفظ کر لیتے اور اپنے اپنے ذاتی صحائف میں درج کر لیتے اور پھر اپنا حفظ اور اپنی تحریرات رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اُن کی درستگی کی سند حاصل کرتے اور پھر صحابہ کثرت تلاوت سے اور گاہے گا ہے ایک دوسرے کے سامنے اپنا حفظ پیش کر کے اپنے اور دوسرے صحابہ کے حفظ کی حفاظت کرتے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی وقتافوقتاً صحابہ سے قرآن کریم سنتے رہتے۔عبید نبوی میں قرآن کریم مکمل طور پر تحریری صورت میں جمع ہو چکا تھا یہ بات بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ کتابت قرآن پر مقرر صحابہ نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے نزول کے ساتھ ساتھ تحریر کرتے ہوئے مکمل قرآن مجید کے نسخہ جات تیار کر لیے تھے جو اپنی جگہ جمع قرآن کا ایک اہم باب