اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 22
الذكر المحفوظ 22 اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف یہی صحابہ قرآن کریم کی وحی کو نزول کے ساتھ ساتھ تحریر کیا کرتے تھے۔بلکہ اور بھی بہت سے صحابہ تھے جن کا تاریخ اسلام نے بطور خاص کتابت وحی قرآن کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔مشہور کاتبین میں خلفاء راشدین ، حضرت زبیر بن العوام ، حضرت شرجیل بن حسنہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت شامل ہیں۔ان میں سے حضرت زید رضی اللہ عنہ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص کا تب وحی تھے۔لیکن ان کے ساتھ اور کا تین کی بھی آنحضور نے ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی۔روایت ہے: اذا نزل عليه شيء دعا بعض من كان يكتب (مسند احمد بن حنبل؛ مسند عشرة المبشرين بالجنة مسند عثمان بن عفان یعنی جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان میں سے کسی کو بلا لیتے جو لکھنے پر مامور تھے۔یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ بہت سے صحابہ ذاتی طور پر قرآن کریم تحریر کیا کرتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے حضور پیش کر کے اپنے اپنے نسخہ کے مستند ہونے کو یقینی بناتے۔عمدۃ القاری میں ہے: پہلے کا تب وحی عبداللہ بن ابی سرح تھے۔یہ بعد میں مرتد ہو گئے تھے اور فتح مکہ کے موقع پر دوبارہ اسلام قبول کر لیا اور قرآن کے کاتبین میں خلفاء اربعہ کے علاوہ زبیر بن عوام، سعید بن عاص بن امیہ کے دو بیٹے خالد اور ابان، حنظلہ بن ربیع الاسدی، معیقیب بن ابی فاطمہ، عبداللہ بن ارقم زہری ، شرجیل بن حسنہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔اور مدینہ میں جن لوگوں نے وحی قرآن کو لکھنے کا کام کیا ان میں اُبی بن کعب اور اس سے پہلے کے کاتب وحی زید بن ثابت شامل ہیں اور بھی بہت سے لوگ ان کے ساتھ شامل ہیں۔(عمدة القارى شرح بخاری جلد 20 كتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن صفحه 19) تاریخی حقائق کی روشنی میں عبداللہ بن ابی سرح کو پہلا کاتب وحی لکھنا درست نہیں۔کیونکہ یہ ابتدائی مومنین میں سے نہیں ہیں بلکہ ان سے قبل کئی کبار صحابہ جولکھنا پڑھنا جانتے تھے ایمان لا چکے تھے۔ان میں حضرت ابو بکر، حضرت علی، اور حضرت عثمان وغیرہ شامل ہیں۔پس پہلا کاتب وحی ان ابتدائی مومنین میں سے ہی کوئی ہے۔اس روایت میں پندرہ معین اصحاب کا ذکر ہے۔تاریخ طبری میں دس اصحاب کے نام دیئے گئے ہیں جن میں سے آٹھ مندرجہ بالا فہرست میں سے ہیں اور بقیہ دو حضرت علاء بن حضرمی اور معاویہ بن ابی سفیان کے نام ہیں۔تاريخ الامم والملوك تاريخ طبرى جزء ثانی صفحه (421) پھر عرض الانوار میں تاریخ طبری ، صحاح ستہ اور طبقات ابن سعد کے حوالہ سے کاتبین وحی کی ایک لمبی