اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 21 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 21

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 21 مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ إِلَّا الْقُرْآنَ وَ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ (صحیح بخارى كتاب الجزية باب اثم من عاهد ثم غدر ”ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے، اور کچھ نہیں لکھا“ اسی طرح فرماتے ہیں مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابِ اللهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ (صحيح بخارى كتاب الفرائض باب اثم من تبرا مواليه) ہمارے پاس پڑھنے کے لیے سوائے صحیفہ خداوندی اور اس کتاب کے اور کوئی کتاب نہ تھی اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ملتا ہے کہ: جو شخص پسند کرتا ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت حاصل ہو جائے تو اسے چاہیے کہ 66 قرآن مجید مُصْحَف “ سے دیکھ کر پڑھے۔(الاتقان في علوم القرآن الجزء الاول صفحه 110) حضرت اوس ثقفی سے یہ حدیث مروی ہے کہ: زبانی قرآن پڑھنے کا ایک ہزار درجے ثواب ہے اور دیکھ کر پڑھنے کا ثواب اس سے دو ہزار درجے تک زیادہ ہے۔(البرهان في علوم القرآن جزء اول صفحه 462) مندرجہ بالا تمام احادیث بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر بیان کر رہی ہیں کہ ابتداء اسلام سے ہی قرآن مجید تحریر کیا جاتا تھا اور بہت سے صحابہ کرام کے پاس قرآن کریم کا کچھ نہ کچھ حصہ تحریری صورت میں ضرور موجود رہتا تھا جو کتابت وحی قرآن کا نا قابل تردید ثبوت ہے۔اس کا ایک ثبوت تعلیم القرآن کے باب میں قاری کو ملے گا کہ کس طرح وسیع پیمانے پر تعلیم القرآن کی باقاعدہ کلاسز ہوا کرتی تھیں اور قرآن کریم کے کافی نسخہ جات نہ ہوں تو اس طرح وسیع پیمانہ پر یہ کلاسز منعقد کرنا ناممکن تھا۔کاتبین وحی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص چند صحابہ کو کتابت وحی قرآن کے لیے مقر فر مایا ہوا تھا۔صحیح بخاری میں درج حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوروایات کے مطابق ان میں سے انصار صحابہ کی تعداد پانچ تک بیان ہوئی ہے۔یعنی حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابوزیڈ اور حضرت ابودرداء۔دوسری روایت میں حضرت ابو درداء کی جگہ حضرت ابی بن کعب کا نام ملتا ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب القراء من اصحاب النبى علـ لله الله