اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 326 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 326

الذكر المحفوظ 326 بہت آسان ہے لیکن ثابت کرنا ناممکن ہے۔اگر یہ کلام انسانی ہاتھ کا بنایا ہوا ہے تو پھر لازماً کوئی دوسرا شخص بھی ایسا کلام بنا سکتا ہے۔پس اب یہ معترض کی ذمہ داری ہے کہ اگر ایسا سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کا کوئی حصہ انسانی ہے تو اس کی مثل بنا کر ثابت کر دے کہ انسان ایسا کلام بنا سکتا ہے۔مگر قرآن کریم کی یہ بھی پیشگوئی ہے کہ کوئی معترض مثل نہیں بنا سکے گا۔ایک طرف تو چیلنج دیا کہ قرآن کریم کے کسی بھی حصہ کی مثل لانا ہر گز تمہارے لیے ممکن نہیں ہوگا اور سورۃ یوسف کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ احسن القصص ہے۔سورۃ یوسف پر اعتراض کر رہے ہو کہ الحاقی ہے پس اپنے دعوی کو سچا کرنے کے لیے کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کر سکتے تو سورت یوسف کی مثال بنا کر لے آؤ! پس حقیقت تو دراصل یہی ہے جو امام الزماں علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں کہ: یونہی دیوانوں اور سودائیوں کی طرح اوہام باطلہ پیش کرنا جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو راست بازوں کی طرح حق کا تلاش کرنا منظور ہی نہیں۔براہین احمدیہ چہارم حاشیہ گیارہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 226 ایڈیشن اول صفحہ 206 ) قرآن کریم کے نزول کے بعد تو عربی زبان کی ادبی خصوصیات زیادہ کھل کر اور نکھر کر سامنے آئیں۔قرآن کریم کی آیات کو بہترین ادبی مجموعہ قرار دیا گیا اور علم فصاحت اور علم بلاغت کی بنیاد قرآن کریم پر ڈالی گئی۔اعلی ادبی پیمانے قرآنی آیات کی روشنی میں بننے لگے۔حسنِ بیان کے مثالی نمونوں کے طور پر قرآنی آیات پیش کی جاتیں۔اسباب بلاغت و بداعت میں سینکڑوں قسم کے بدائع ہیں۔مجاز، استعاره، کنایه، تمثیل ، تشبیه، اطناب، ایجاز، استطراد، حسن التخلص، تضمین تجنیس ، تکرار، انسجام، ایہام، مبالغہ، مطابقہ،مقبلہ ، ارداف وغیرہ وغیرہ۔آگےان کی اقسام ہیں اہل اسلام نے قرآن کی خدمت میں صرف اسی علم کے میدان میں بے شمار علمی کارنامے سرانجام دیے۔عربی زبان میں ایسے ایسے اہل علم پیدا ہوئے جو علم فصاحت و بلاغت کے گویا استاد مانے جاتے ہیں۔انہوں نے قرآن کریم کی کسی سورت کو لے کر یہ نہیں کہا کہ یہ کلام ایسا ہے کہ انسانی ہونے کا اس میں شبہ بھی ہو سکے۔بلکہ قرآنی آیات گویا پیمانہ تھیں کسی بھی اہل زبان کے حُسنِ کلام کو جانچنے کا۔خارجیوں نے ایک سورت کو لے کر یہ تو کہہ دیا کہ یہ سورت الہی کلام نہیں ہو سکتی لیکن کیا انہوں نے اپنے دعوئی کی صداقت میں کوئی دلیل پیش کی یا قرآن کریم کا چیلنج قبول کیا اور مثال پیش کی ؟ اب یہ دیکھتے ہیں کہ خارجی جس وجہ سے سورۃ یوسف کو جائے اعتراض ٹھہراتے ہیں وہ کس حد تک درست ہے اور خارجیوں کے حوالے سے یہ ابن وراق کا یہ کہنا کہاں تک سچ ہے کہ سورۃ یوسف میں جذبات کو انگیخت کرنے والا بیان ہے۔اس کا بہترین حل یہی ہے کہ قارئین کے سامنے سورۃ یوسف کا مکمل ترجمہ پیش کر دیا جائے ، گو کلام کا اصل حسن تو عربی عبارت میں ہی ہے مگر اس وقت بحث حسن بیان کی نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا اس سورۃ میں جذبات کو انگیخت کرنے والی کوئی بات ہے؟