اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 303
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 303 جن پر بددیانت مخالفین اسلام اپنی تحقیق کی بنیا درکھتے ہیں قابل اعتنا نہیں ہوسکتیں۔لطف یہ کہ ان غیر مستند روایات سے بھی یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ قرآن کریم میں کوئی تحریف ہوئی ہے۔یہاں یہ سوال اُٹھ سکتا ہے کہ مختلف قراء تیں حفص اور ورش وغیرہ تو اب بھی جاری ہیں۔پھر حضرت عثمان نے کون سا اختلاف ختم کیا۔تو اس ضمن میں عرض ہے کہ علم القراءت ایک بہت وسیع علم ہے۔اس میں باعث اختلاف حصہ کو ختم کر کے قبیلہ قریش کی لغت پر اکٹھا کیا گیا۔ورش کی موجودگی محافظت قرآن کے مخالف نہیں اور اتنی ضروری بھی نہیں۔آج تلاوت قرآن میں لحن اور لہجہ کا فرق پایا جاتا ہے۔اسے بھی اگر قراءت ہی کا فرق سمجھا جائے تو اس فرق کو ختم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ختم کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اس کی موجودگی اختلافات کا سبب نہیں ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا واضح ارشاد تھا کہ قرآن کو عربوں کے انداز میں پڑھو اور عربوں کے اختلاف لغت کے علاوہ ہر قبیلہ کا اپنا لہجہ اور پڑھنے کا اپنا انداز تھا۔پس وہ لہجے اور انداز آگے بڑھے۔لغت کے اختلاف کا ذکر آج صرف کتب میں پایا جاتا ہے اور ان لغات کے مطابق قرآن شائع نہیں کیے جاتے بلکہ مصحف عثمانی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں اور قرآن کریم کی لغت کا جو اختلاف تھا وہ اب صرف اس کے اخذ معارف و معانی میں بطور دلیل کے استعمال کیا جاتا ہے۔پس آج جو اختلاف قراءت موجود ہے وہ لغت اور مختلف قبائل میں استعمال ہونے والے مختلف مگر ہم معنی الفاظ کا اختلاف نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت دوسری ہے۔وہ لحن اور حسن تلاوت وغیرہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی بنیاد بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی راہنمائی پر ہی ہے چنانچہ روایات ملتی ہیں: عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ اَنَسًا عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : كَانَ يَمُدُّ مَدًّا۔(سنن ابی داود کتاب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة) حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے انس سے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقْطَعُ قِرَاءَ تَهُ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقُوْلُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ يَقِفُ (رواه الترمذى بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن حدیث نمبر ٢٢٠٥) ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرتے تھے آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھ کر تو قف فرماتے پھر الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ پڑھتے اور توقف فرماتے۔عَن يَعْلَى فِي مَمْلَكِ أَنَّهُ سَأَلَ أَمْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ قِرَاءَ وَ النَّبِيِّ