اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 304 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 304

الذكر المحفوظ 304 صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ تَنْعُتُ قِرَاءَةً مُفَسِّرَةً حَرْفًا حَرْفًا۔(رواه الترمذى وابوداود والنسائى بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن) يَعْلى بن سَمْلِكُ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرآن کی تلاوت کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قراءت، قراءت مفسرہ ہوتی تھی یعنی ایک ایک حرف کے پڑھنے کی سننے والے کو سمجھ آ رہی ہوتی تھی۔یہ تو نمونہ کے طور پر چند روایات درج کی ہیں۔ورنہ بہت کثرت سے روایات ملتی ہیں جن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور نے تلاوت قرآن کے ضمن میں اپنے اقوال اور سنت کے نور سے امت کی بہت تفصیل سے راہنمائی فرمائی۔اس بارہ میں ہدایات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور رہنمائی کو بنیاد بناتے ہوئے قراءت کی یہ شکل ایک با قاعدہ علم کی صورت میں آگے بڑھی۔امت مسلمہ میں اس پر بہت کام ہوا اور ہر دور میں اس علم کے ماہرین موجود رہے ہیں۔علم قراءت ایک وسیع علم ہے اور علماء اسلام نے اس پہلو سے اسے دیکھا کہ جیسے کلام اللہ اپنی جلالت سے انتہائی عظمت لیے ہوئے ہے اسی طرح کلمات اللہ کی وہی عظمت اور شان ہے۔پس دیگر تمام قرآنی علوم وفنون کی طرح یہ علم وفن بھی کچھ کم عظمت کا حامل نہیں ہے اس لیے اس فن میں ابتدا سے ہی عربی میں بہت سی کتب لکھی جاتی رہیں اور اس کے بھی ائمہ ہوئے۔چنانچہ علامہ دانی اور علامہ شاطبی مشہور ائمہ ہیں۔اس علم کو با قاعدہ سائنس کے طور پر آگے بڑھایا گیا۔علوم قراءت پر ایک نظر اس نہج سے بھی ڈالنی چاہیے کہ اتنے وسیع علم کی بنیاد جوڈالی گئی اور باقاعدہ سائنس کی شکل دی گئی تو اس معاملہ میں گہری تحقیقات سے مسلمان علماء نے کیا نتیجہ نکالا؟ آیا یہ سب علوم سیہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں تبدیلی ہوئی ہے یا علماء اسلام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ سب قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی اشاعت کا ایک بے نظیر انتظام تھا جو اور کسی کتاب کے لیے نہیں کیا گیا۔اگران علوم سے یہ نتیجہ نکلتا کہ قرآن کریم میں تبدیلی ہوگئی ہے تو پھر ان علما کا جودُنیا کے مختلف علاقوں میں بستے اور ایک دوسرے کے اثرات سے بالکل آزادان علوم پر تحقیقات کرتے رہے، اسلام پر قائم رہنا اور مجموعی طور پر قرآن کریم کو غیر مبدل کلام الہی تسلیم کرنا اور اس یقین پر قائم رہنا کیسے ممکن ہے؟ علاوہ ازیں یہ بھی چاہیے تھا کہ ان علوم سے امت مسلمہ کو دور رکھا جائے۔لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے اور آج قرآنی علوم میں علوم قراءت پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔اگر اس علم سے قرآن کریم کی حفاظت پر سوال اُٹھتے تو کیوں اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ اس کو اہمیت دی جاتی ؟ اور کیوں ان علوم کے حصول کے بعد لوگ سوال نہیں اُٹھاتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان علوم میں خصوصی مہارت رکھنے والے قرآن کریم کے محفوظ ہونے پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جس طرح دوسرے مسلمان۔اب ذرا ایک اور نمونہ ملاحظہ ہو کہ مستشرقین کس طرح دجل اور فریب کی راہ سے شکوک پیدا کرنے کی کوشش