اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 271 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 271

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 271 ٹھوکر کھا سکتا ہے۔پھر یہ مصاحف چونکہ صحابہ اپنے ذاتی استعمال کی غرض سے لکھ رہے تھے اس لیے بعض انہیں سورتوں کو لکھتے جن کو لکھنے کی وہ ضرورت محسوس کرتے یا پھر برکت کی خاطر وحی قرآن کا کچھ حصہ نزول کے ساتھ ساتھ لکھ لیتے تھے۔پھر وحی کے جاری ہونے کی وجہ سے قرآن کریم کے متن کی تحریر میں ظاہری ترتیب کو قائم رکھا ہی نہیں جاسکتا تھا نیز ترتیب کا عام علم ہونے کی وجہ سے متن کو ظاہری ترتیب کے ساتھ تحریر کرنے کی کوئی خاص ضرورت محسوس بھی نہیں کی جاتی تھی۔یہ ترتیب تو اس وقت سامنے آسکتی تھی جب قرآن مکمل ہو کر کتابی شکل میں جمع اور پیش کیا جاتا جو کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات مبارکہ میں ناممکن تھا۔علاوہ ازیں تمام صحابہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ قرآنِ کریم کا مرکزی صحیفہ تمام تر احتیاط کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے اس لیے برکت کے لیے اور حسب ضرورت عام طور پر صحابہ کچھ حصہ قرآن تو تحریری صورت میں اپنے پاس رکھتے مگر مکمل نسخہ تحریر کرنے کی ضرورت نہ سمجھتے۔پس صحابہ کا اپنے طور پر مصاحف جمع کرنا رضائے الہی اور اپنی ذاتی ضرورت کے لیے ہوتا تھا۔اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں تھی۔خصوصاً اس صورت میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی جمع و تدوین کا کام بھی ہورہا تھا اور تعلیم قرآن کا سلسلہ بھی زور وشور سے جاری تھا۔حضرت ابو بکر نے اپنے دور خلافت میں صحابہ کرام کی متفقہ گواہی سے قرآن کریم کا ایک نسخہ تحریر کر کے محفوظ کر دیا تھا۔جسے مصحف ام کہا جاتا ہے۔مصحف ام کی وجہ سے صحابہ کرام کی متفرق اور ذاتی طور پر تیار کی گئی تحریرات کے فرق کی وجہ سے آئندہ جو شبہات پیدا ہو سکتے تھے ان کا خطرہ ٹل گیا۔تمام صحابہ نے یہ گواہی دی تھی کہ یہ نسخہ قرآن کریم مکمل ہے اور بعینہ وہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور آپ نے امت کے سپر د فر مایا اور یہ وہی قرآن کریم ہے جو بہت سے صحابہ نے مختلف حصوں کی صورت میں اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا اور کم از کم چار صحابہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی مکمل طور پرتحریری صورت میں محفوظ کر لیا تھا۔حضرت عثمان نے صحابہ کرام کے مشورہ اور اتفاق رائے کے مطابق مصحف ام کی لغت قریش پر اشاعت کی اور متفرق قرآنی تحریرات کو جلانے کا حکم دیدیا جن میں لوگوں نے اپنے اپنے طور پر قرآن کریم یا اس کا کچھ حصہ تحریر کیا ہوا تھا۔جہاں تک ابنِ وراق کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ عبد اللہ بن مسعود شسورۃ الفاتحہ اور معوذتین کو متن قرآن کا حصہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔تو اس ضمن میں عرض ہے کہ واقعی بعض ایسی روایات ملتی ہیں کہ آپ اپنے صحائف میں سے ان سورتوں کو مٹادیا کرتے تھے۔لیکن ان روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پہلے درج کی تھیں لیکن پھر کسی وجہ سے آپ کی رائے یہ ہوگئی کہ یہ سورتیں درج نہیں کرنی چاہئیں اس لیے مٹانا شروع کر دیا۔