اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 10
10 الذكر المحفوظ After Muhammad's death in A۔D۔632, there was no collection of his revelations۔Consequently, many of his followers tried to gather all the known revelations and write them down in codex form۔Soon we had the codieced of several scholars such as Ibn Mas`ud, Ubai b۔Kab, Ali, Abu Bakr, al-Ash`ari, al Aswad, and others۔As Islam spread, we eventually had what became known as the Metropolitan Codices in the centers of Mecca, Medina, Damascus, Kufa and Basra۔As we saw earlier, Uthman tried to bring order to this chaotic situation by canonising with Medinan Codex, copies of which were sent to all the metropolitan centers with order to destroy all the other codices۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg 108-109) ہمیں مختلف versions اور مختلف قراءتوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے قرآنی متن کی تاریخ کو دوبارہ کھنگالنے کی ضرورت ہے جن کا وجود ہی قرآن کریم کے بارہ میں مسلمانوں کے عقیدہ کا بودا پن ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ قرآن نام کی کسی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں۔اس مقدس کتاب کا کوئی خاص متن کبھی بھی سامنے نہیں آیا۔جب ایک مسلمان اپنے اس عقیدہ کا اظہار کرتا ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے تو ہمیں اس کا یقین متزلزل کرنے کے لیے صرف یہی پوچھنا کافی ہوتا ہے کہ کون سا قرآن؟“ (حضرت) محمد (ﷺ) کی وفات 632ء کے بعد آپ پر نازل ہونے والی وحی کا کوئی مجموعہ موجود نہیں تھا۔دریں اثناء آپ کے بہت سے صحابہ نے تمام معلوم وحی کو جمع کرنے کی کوشش شروع کر دی اور اسے متن کی صورت میں لکھ لیا۔چنانچہ جلد ہی بہت سے علما، جیسے ابن مسعود، أبي بن کعب، علی، ابوبکر ، الاشعری، الاسود اور دوسرے صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کے مجموعے دستیاب تھے۔اسلام کے پھیلتے ہی ہمارے پاس آخر کار چند مرکزی صحائف اکٹھے ہو گئے جو مکہ، مدینہ دمشق، کوفہ اور بصرہ میں تھے۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ عثمان نے صحیفہ کی اس نا گفتہ بہ حالت کی مدنی صحیفہ کے مطابق تدوین کے ذریعہ اصلاح کی کوشش کی جس کی نقول اس حکم کے ساتھ دوسرے نئے اسلامی مراکز میں بھجوادی گئیں کہ دیگر تمام نسخہ ہائے قرآن تلف کر دیے جائیں۔اس چھوٹے سے بیان میں ابن وراق جتنا جھوٹ بھر سکتا تھا اس نے بھر دیا ہے۔خصوصاً پہلے پیرے میں کیے ہوئے جھوٹے دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لیے دوسرے پیرے میں مزید تلبیس ، جھوٹ اور فریب سے کام لیا ہے۔حالانکہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ قرآن کریم کا کبھی بھی کوئی مخصوص اور معتین متن نہیں رہا اور آپ کی وفات کے