اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 9
9 ہے کہ بعض دفعہ ایک محقق بعض حقائق کو بیان کرنے پر اس طرح مجبور ہو جاتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی اپنی سوچ کے مطابق نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا اور واضح طور پر اعتراف کرتا ہے کہ حقائق کا مجموعی مطالعہ ہمیں فلاں نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اس کا انداز بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کر کے یا اس حقیقت کا اعتراف کر کے دلی طور پر خوش تو نہیں لیکن اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔مغربی محققین اور مستشرقین کے ہاں اسلام کے بارہ میں تحقیق میں بالعموم تعصب اور اسلام دشمنی کا عنصر بہت حد تک کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ایک خاص طرز فکر ، بنیادی اسلامی مآخذ سے نا آشنائی ، عربی سے عدم واقفیت اور مخالفانہ اور متعصب اُٹھان کی وجہ سے مستشرقین کی تحقیقات میں بار ہا یہ نظر آتا ہے کہ واضح حقائق کو عمداً نظر انداز کیا جارہا ہے اور بلاوجہ تنقید کی جارہی ہے جو اکثر اوقات تحقیق کے اپنے مسلمہ اصولوں کے بھی خلاف ہوتی ہے لیکن اس رویہ کے باوجود تحقیق کے کچھ میدان ایسے ہیں جہاں بسا اوقات تمام تر حقائق پر نظر ڈالنے کے بعد وہ بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنی مرضی کے خلاف اور درست نتیجہ نکالیں۔گو ایسے موقعوں پر الفاظ میں تعصب تو وہی جھلک رہا ہوتا ہے جو دل میں ہوتا ہے لیکن کوئی بس نہیں چلتا۔چنانچہ محافظت قرآن شریف کے میدان میں کچھ ایسا ہی نظارہ نظر آتا ہے۔قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے بارہ میں حقائق ایسے روشن اور واضح ہیں کہ جن کا مطالعہ کرنے والا ہر دیانت دار محقق با وجود نظریاتی اختلاف اور مخالفت کے اس بات کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے کہ قرآن کریم بلاشبہ محفوظ ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔پیش لفظ میں ویلیم میور اور نولڈ یکے کی مثال گزر چکی ہے۔لیکن دشمنی اور تعصب میں حد سے گزرنے والے کچھ سر پھرے ایسے بھی ہیں جن کی عقلیں اس درجہ موٹی ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے روشن کیے ہوئے اس چراغ کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ زمانوں میں ان کے عمائدین کو شائد پورا پورا موقع نہیں ملا اس لیے نامرادی کے داغ چہروں پر سجائے گزر گئے۔ہم آج پھر زور لگائیں تو کامیاب ہو جائیں گے۔ان میں سے ایک محقق ابن وراق نے اس بات کو پس پشت ڈال کر کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت کا خود ضامن ہے اور اس حقیقت کی صداقت کا ثبوت پندرہ صدیوں پر محیط عرصہ ہے، حفاظت قرآن پر ایک مرتبہ پھر حملہ کرنے کی جرات کی ہے۔لکھتا ہے: We need to retrace the history of the Koran text to understand the problem of variant versions and variant readings, whose very existence makes nonsence of the muslim dogma about the Koran۔As we shall see, there is no such thing as the Koran; there never has been a definitive text of this holy book۔When a Muslim dogmatically asserts that the Koran is the word of God, we need only ask "Which Koran?" to undetermine his certainty۔