اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 240
240 الذكر المحفوظ اختام پر مضمون کے تمام ضروری پہلوؤں کا احاطہ ہوچکا ہوتا ہے اور سُننے والوں کو اس مضمون پر تمام ضروری معلومات حاصل ہو چکی ہوتی ہیں اور ساتھ ساتھ ذہن بھی اس کی حقانیت کو تسلیم کر چکے ہوتے ہیں اور دل بھی عمل کرنے کے لیے تقویت پاچکے ہوتے ہیں۔قرآن کریم بہترین انداز میں یہ طریق اختیار کرتا ہے پس اسے کلام کی کمزوری کیونکر کہا جاسکتا ہے؟ یہ تو ایک ایسی خوبی ہے جس میں کوئی کتاب قرآن کریم کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔اپنے مقصد اعلیٰ یعنی تقوی کے حصول کے لیے اپنے اسلوب بیان کے بہترین ہونے کی اس خصوصیت کو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَ مَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَالَهُ مِنْ هَادٍ۔(الزمر:24) اللہ نے بہترین بیان ایک ملتی جلتی ( اور ) بار بارڈ ہرائی جانے والی کتاب کی صورت میں اتارا ہے۔جس سے ان لوگوں کی جلد میں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں لرزنے لگتی ہیں پھر ان کی جلد میں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوتے ہوئے ) نرم پڑ جاتے ہیں۔یہ اللہ کی ہدایت ہے ، وہ اس کے ذریعہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایک اور خاصہ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اسی کلام پاک سے خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پر دوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منتشرح کرتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربانِ حضرت احدیت میں ہونی چاہیے اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا اور اس روحانی تا ثیر کا ثبوت بھی ہم اس کتاب میں دے چکے ہیں اور اگر کوئی طالب حق ہو۔تو بالمواجہ ہم اس کی تسلی کر سکتے ہیں اور ہر وقت تازہ بتازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں۔براہین احمدیہ چہار حص حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 402 ایڈیشن اول صفحہ 338) قرآن کریم ایک مضمون بیان کرتے ہوئے فطرتِ انسانی کی طرف سے اُٹھنے والے تمام طبعی سوالات کے جوابات بھی نہایت عمدہ پیرایہ میں ساتھ ساتھ دیتا جاتا ہے۔کسی مضمون کے بیان میں جب ایسا موقع آتا ہے کہ