اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 241
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 241 قاری کا یا سامع کا دل تقویٰ کی طرف مائل ہورہا ہوتا ہے تو اس وقت عقلی یا علمی دلائل سے ہٹ کر موضوع کا رُخ اس سمت پھیرنا ضروری ہوتا ہے جس سے قاری یا سامع کا دل تقویت پائے اور تقویٰ میں ترقی ہو اور دلائل کے سمجھنے نتیجہ میں صرف مبہوت اور لا جواب ہو کر نہ رہ جائے اور عبادت الہی کے لیے اس لیے راضی نہ ہو کہ اگر نہ کی تو لوگوں کو کیا جواب دوں گا بلکہ ان مضامین کے بیان سے کتاب کے نزول کا مقصد اعلیٰ حاصل ہو یعنی تقویٰ کے حصول کے لیے راہ ہموار ہواور قاری کا دل خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جائے اور بلاخوف لومۃ لائم صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے عبادت کی طرف توجہ کرے نہ کہ ماحول کے مطابق رویہ اختیار کرے۔اس موقع پر کسی بات کو دہرا کر اور نئے نئے انداز میں بیان کرنا یا عفو درگزر کی کسی مثال کے ذکر کے بعد خدا تعالیٰ کی رحیمیت کی سے قاری اور سامع کے دل کو گداز کرنا یا کسی عبرت آموز واقعہ کے بیان کے بعد خدا تعالیٰ کے کبر و جبروت کی طرف اس انداز میں توجہ دلانا کہ بہت خداوندی کے ساتھ ساتھ محبت الہی بھی دلوں کو گرمائے ، تاکہ منافقت کی جڑ مر جائے، تقویٰ کا بیج دل میں بویا جائے اور ریا کاری کی بجائے اخلاص اور محبت سے روح آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہنے لگے۔یا پھر ایک تاریخی واقعہ سے خدا تعالیٰ کی متعلقہ صفات کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرانا ہی دراصل کلام الہی کا اندرونی ربط ہو گا اور اس ربط کو چھوڑنا، مقصد اعلیٰ سے دُور ہونے کے برابر ہوگا۔پس ایسے موقع پر ایک ظاہری ربط سے ہٹنا ہی دراصل کلام کو مربوط رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ایک خشک ملا اس موقع پر مقصد اعلیٰ کی طرف نظر کیے بناہی اعتراض کر دے گا لیکن ایک ایسا قاری جو کتاب کے مقصد سے واقف ہے، عش عش کر اُٹھے گا۔قرآن کریم کے اس اسلوب بیان کو فلپ کے حتی بھی سمجھتے ہیں۔لکھتے ہیں: All these narratives are used didactically, not for the object of telling a story but to preach a moral, to teach that God in former times has always rewarded the righteous and punished the wicked (History of Arabs Pg: 125) قرآن کریم کا سارا بیان ایک درس کی صورت میں ہے جس کا مقصود محض قصہ گوئی نہیں بلکہ اخلاقیات کی تعلیم دینا اور یہ سمجھانا ہےکہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ہمیشہ نوازتا اور بر وں کو سزا دیا کرتا ہے۔قرآن کریم کا اسلوب بیان عام طرز پر نہیں ہے جب کوئی شخص کتاب لکھتا ہے تو اپنے مبلغ علم کے مطابق اس کے عناوین مرتب کرتا ہے اور اپنے محدود علم کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان عناوین کے تحت ایک ترتیب کے ساتھ مضمون کی جزئیات بیان کرتا ہے۔قاری کو مصنف کے ایک عنوان کے تحت ملتے جلتے مضامین کو ذہن نشین کرنے میں زیادہ وقت نہیں ہوتی اور وہ اس کی ترتیب کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ تجزیہ بھی کرتا جاتا ہے کہ مصنف نے مضامین کو بہترین رنگ میں