اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 230
الذكر المحفوظ 230 ہے کہ علم الہی بوجہ اپنی کمالیت اور جامعیت کے ہرگز انسان کے ناقص علم سے متشابہ نہیں ہوسکتا۔بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علم سے نکلا ہے۔وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہے اور انسانی کلاموں سے بکلی امتیاز رکھتا ہو۔سو یہی کمالیت قرآن شریف میں ثابت 66 ہے۔غرض خدا کے کلام کا انسان کے کلام سے ایسا فرق بین چاہیئے۔“ براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صہ 214 تا240 ایڈیشن اول صہ 197 تا 214) قرآن کریم کے چیلنج کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح پاک فرماتے ہیں: یہ امر ہر یک عاقل کے نزدیک بغیر کسی تردد اور توقف کے مسلم الثبوت ہے کہ گلاب کا پھول بھی مثل اور مصنوعات الہیہ کے ایسی عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں جمع رکھتا ہے جن کی مثل بنانے پر انسان قادر نہیں اور وہ دو طور کی خوبیاں ہیں۔ایک وہ کہ جو اس کی ظاہری صورت میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس کا رنگ نہایت خوشنما اور خوب ہے اور اس کی خوشبو نہایت دلا رام اور دلکش ہے اور اس کے ظاہر بدن میں نہایت درجہ کی ملائمت اور تر و تازگی اور نرمی اور نزاکت اور صفائی ہے۔اور دوسری وہ خوبیاں ہیں کہ جو باطنی طور پر حکیم مطلق نے اس میں ڈال رکھی ہیں یعنی وہ خواص کہ جو اس کے جوہر میں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ مفرح اور مقوی قلب اور مسکن صفرا ہے۔اور تمام قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور صفر اور بلغم رقیق کا مسہل بھی ہے اور اسی طرح معدہ اور جگر اور گردہ اور امعا اور رحم اور پھیپھڑہ کو بھی قوت بخشتا ہے۔اور خفقان حار اور غشی اور ضعف قلب کے لئے نہایت مفید ہے اور اسی طرح اور کئی امراض بدنی کو فائدہ مند ہے۔پس انہیں دونوں طور کی خوبیوں کی وجہ سے اس کی نسبت اعتقاد کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مرتبہ کمال پر واقعہ ہے کہ ہر گز کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسا پھول بناوے کہ جو اس پھول کی طرح رنگ میں خوشنما اور خوشبو میں دلکش اور بدن میں نہایت تروتازہ اور نرم اور نازک اور مصفا ہو۔اور باوجود اس کے باطنی طور پر تمام وہ خواص بھی رکھتا ہو جو گلاب کے پھول میں پائے جاتے ہیں۔اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیوں گلاب کے پھول کی نسبت ایسا اعتقاد کیا گیا کہ انسانی قوتیں اس کی نظیر بنانے سے عاجز ہیں اور کیوں جائز نہیں کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنا سکے۔اور جو خوبیاں اس کی ظاہر و باطن میں پائی جاتی ہیں وہ مصنوعی پھول میں پیدا کر سکے۔تو اس سوال کا جواب یہی ہے کہ ایسا پھول بنانا عادتا تمنع ہے اور آج تک کوئی حکیم اور فیلسوف کسی ایسی ترکیب سے کسی قسم کی ادویہ کو ہم نہیں