اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 229 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 229

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 229 عوارض کی پوری پوری واقفیت حاصل ہے اور علاوہ اس کے فن سخن میں بھی یکتا ہے اور نظم اور نثر میں سرآمد روزگار ہے۔جیسے وہ ایک مرض کے حدوث کی کیفیت اس کے علامات اور اسباب فصیح اور وسیع تقریر میں بکمال صحت و حقانیت اور یہ نہایت متانت و بلاغت بیان کرسکتا ہے۔اس کے مقابلے پر کوئی دوسرا شخص جس کو فن طبابت سے ایک ذرہ مس نہیں اور فن سخن کی نزاکتوں سے بھی نا آشنا محض ہے۔ممکن نہیں کہ مثل اس کے بیان کر سکے۔یہ بات بہت ہی ظاہر اور عام فہم ہے کہ جاہل اور عاقل کی تقریر میں ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے اور جس قدر انسان کمالات علمیہ رکھتا ہے۔وہ کمالات ضرور اس کی علمی تقریر میں اس طرح پر نظر آتے ہیں۔جیسے ایک آئینہ صاف میں چہرہ نظر آتا ہے اور حق اور حکمت کے بیان کرنے کے وقت وہ الفاظ کہ جو اس کے مونہہ سے نکلتے ہیں۔اس کی لیاقت علمی کا اندازہ معلوم کرنے کے لیے ایک پیمانہ تصور کیے جاتے ہیں اور جو بات وسعت علم اور کمال عقل کے چشمہ سے نکلتی ہے اور جو بات تنگ اور منقبض اور تاریک اور محدود خیال سے پیدا ہوتی ہے۔ان دونوں طور کی باتوں میں اس قدر فرق واضح ہوتا ہے کہ جیسے قوت شامہ کے آگے بشرطیکہ کسی فطرتی یا عارضی آفت سے ماؤف نہ ہو۔خوشبو اور بد بو میں فرق واضح ہے۔جہاں تک تم چاہو فکر کرلو اور جس حد تک چاہو سوچ لو کوئی خامی اس صداقت میں نہیں پاؤ گے اور کسی طرف سے کوئی رخنہ نہیں دیکھو گے پس جبکہ من کل الوجوہ ثابت ہے کہ جو فرق علمی اور عقلی طاقتوں میں مخفی ہوتا ہے۔وہ ضرور کلام میں ظاہر ہو جاتا ہے اور ہرگز ممکن ہی نہیں کہ جو لوگ من حیث العقل والعلم افضل اور اعلیٰ ہیں وہ فصاحت بیانی اور رفعت معانی میں یکساں ہو جائیں اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے۔تو اس صداقت کا ثابت ہونا اس دوسری صداقت کے ثبوت کو ستلزم ہے کہ جو کلام خدا کلام ہو۔اس کا انسانی کلام سے اپنے ظاہری اور باطنی کمالات میں برتر اور اعلیٰ اور عدیم المثال ہونا ضروری ہے۔کیونکہ خدا کے علم تام سے کسی کا علم برابر نہیں ہوسکتا اور اسی کی طرف خدا نے بھی اشارہ فرما کر کہا ہے۔فَاِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ الله - الجزو نمبر ۱۲ [هود: 15] یعنی اگر کفار اس قرآن کی نظیر پیش نہ کر سکیں اور مقابلہ کرنے سے عاجز رہیں۔تو تم جان لو کہ یہ کلام علم انسان سے نہیں بلکہ خدا کے علم سے نازل ہوا ہے۔جس کے علم وسیع اور تام کے مقابلہ پر علوم انسانیہ بے حقیقت اور پیچ ہیں۔اس آیت میں برہان انی کی طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں خلاصہ مطلب یہ