اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 8 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 8

الذكر المحفوظ 8 اللہ علیہ والہ وسلم خود تھے۔علاوہ ازیں صحابہ خود بھی عشق قرآن میں سرشار ہونے کی وجہ سے کثرت سے اس کی تلاوت کرتے۔گھروں میں، سفر و حضر میں، نمازوں میں، مجالس وغیرہ میں کثرت سے تلاوت ہوتی۔غرض اُترنے والی نئی وحی کی احتیاط کے سارے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس طرح حفاظت، اشاعت اور پھر بار بار دہرائی ہوتی کہ اس کا بدلنا یا بھولنا ناممکن ہو جاتا۔صحابہ اس یقین کامل سے لبریز تھے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا کلام ، کلام الہی ہے اور اس میں ان کے لیے نجات کا سامان ہے۔چنانچہ وہ والہانہ محبت کے ساتھ اس کی حفاظت اور تعلیم و تدریس میں منہمک رہتے اور نازل ہونے والی ہر آیت کو نزول کے ساتھ ساتھ فوراً حفظ کرتے جاتے۔صحابہ اپنا اپنا حفظ کیا ہوا قرآن کریم کا حصہ ایک دوسرے کو بھی سنایا کرتے اور اس بات کی کڑی نگرانی رکھتے کہ کلام الہی میں ادنی اسی کمی بیشی بھی نہ ہو۔اگر کبھی ادنی سا بھی شک ہوتا تو معاملہ فوراً رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور آپ سے رہنمائی کی جاتی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہونے والا یہ کلام آپ کی نگرانی میں تحریری طور پر صرف انصار مدینہ میں سے کم از کم پانچ صحابہ کے پاس پانچ نسخوں کی صورت میں ایک معین متن کی شکل میں جمع کیا جاچکا تھا۔پھر دیگر صحابہ کے تیار شدہ ذاتی نسخوں کے علاوہ آپ پر نازل ہونے والی وحی کی بے شمار متفرق تحریرات موجود تھیں جو براہ راست آپ کے حضور پیش کر کے مستند بنائی گئی تھیں جن پر آپ نے مہر تصدیق ثبت فرمائی تھی۔پھر بلا مبالغہ ہزاروں ہزار حفاظ موجود تھے جنہوں نے آپ کی وساطت سے اتری ہوئی خدائی راہنمائی کو اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور تلاوت کر کے اس کی درستگی کی تصدیق کر والی تھی۔یہ امر عام فہم ہے کہ کسی بھی شخص کے مزاج اور طبیعت کا اس کی شخصیت پر اثر ہوتا ہے۔کسی کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، معاشرت،سوچنے کا انداز ان سب کا ان نتیجوں سے تعلق ہوتا ہے جو وہ اپنے ماحول اور مختلف امور کے مطالعہ سے اخذ کرتا ہے۔مستشرقین اور محققین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ہر مطالعہ کرنے والے پر یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ہر شخص کے طبعی رجحان اور ذہنی میلان کی سمت کا اس کے اعمال پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔جن لوگوں کا مزاج نسبتاً سخت ہوتا ہے وہ بعض اوقات اصلاح معاشرہ کے لیے نسبتا سخت رویہ اپنانے والے کو پسند کرتے ہیں جبکہ نرم دل لوگ وعظ و نصیحت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔یہ ایک عام فہم اور مسلّمہ حقیقت ہے چنانچہ زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔طبائع کے اس اختلاف کی وجہ سے بعض اوقات قطع نظر اس کے کہ متوازن اور بہترین طریق کیا ہے ایک طرز عمل ایک شخص کے دل کو بھاتا ہے اور کسی دوسرے کے دل کو نہیں بھاتا اور اس کے نزدیک مزید بہتر صورت موجود ہوتی ہے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت