اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 211
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 211 صورت یہ تھی کہ سب سے پہلے اس قسم کی آیات کا نزول ہوتا جن میں صرف عقیدہ کی درستی مدنظر ہے اور مشرکانہ خیالات کو مٹا کر توحید کو قائم کیا گیا ہے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اسلامی طریق عبادات اور اسلامی طریق معاملات اور اسلامی طریق تمدن اور اسلامی طریق سیاست کے متعلق اوامر و نواہی نازل ہوتے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب تالیف القرآن) لیکن جب ایک جماعت اسلام شریعت تیار ہوگئی تو اب اس تخم یا نیو کیس کی آئندہ ترقی کے لیے وہ ابتدائی ترتیب نزول غیر طبعی اور ناموزوں تھی اس لیے اسے بدل کر وہ ترتیب دے دی گئی جو اس کے لیے مناسب تھی۔چنانچہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بالکل اسی اصول کے ماتحت ہے جو ایک تیار شدہ جماعت کے استحکام اس کے پھیلاؤ اور ترقی کے لیے موزوں ترین ہے۔دوسرا اصول نزول کی ترتیب کو بدل کر دوسری ترتیب کے اختیار کرنے میں یہ مدنظر تھا کہ نزول کی ترتیب زیادہ تر ان حالات کے مطابق چلتی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پیش آتے تھے۔مثلاً چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کی زندگی میں ابھی کفار پر اتمام حجت ہو رہا تھا اور مسلمانوں کو صبر و شکیب کے سانچے میں ڈھال کر نکالنا مقصود تھا۔اس لیے مکی آیات میں جہاد کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ صبر و برداشت کی تعلیم پر زور ہے۔لیکن جب اتمام حجت ہو چکا اور صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) بھی صبر و برداشت کے سانچے میں ڈھل چکے اور کفار کے مظالم سے مسلمانوں کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا اور ظالم کی سزا کا وقت آگیا تو اُس وقت جہاد کی آیات نازل ہوئیں اسی طرح مکہ میں چونکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت بصورت جمیعت نہیں تھی اور کفار کے مظالم نے انہیں بالکل منتشر کر رکھا تھا یعنی ان کی کوئی اجتماعی زندگی نہیں تھی اس لیے مکہ میں اسلامی طریق تمدن و معاملات کے متعلق آیات نازل نہیں ہوئیں لیکن جب مدینہ میں مسلمانوں کو ایک اجتماعی زندگی نصیب ہوئی تو اس کے مناسب حال آیات کا نزول ہوا اگر اس نزول میں حالات کی مناسبت اور مطابقت کوملحوظ نہ رکھا جاتا تو یقیناً ابتدائی مسلمانوں کے لیے نئی شریعت کو اپنے اندر جذب کرنا اور اس پر صحیح طور پر عامل ہونا سخت مشکل ہو جاتا۔لہذا قرآن کے نزول کو حتی الوسع حالات پیش آمدہ کے ساتھ ساتھ چلایا گیا تھا تا کہ اس کی تعلیم صحابہ میں جذب ہوتی جاوے، لیکن جب سب نزول ہو چکا اور ایک جماعت قرآنی شریعت کی حامل وجود میں آگئی تو پھر اس ترتیب کو قائم رکھنا ضروری نہ تھا بلکہ پھر اس بات کی ضرورت