اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 210 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 210

الذكر المحفوظ 210 وقت میں کام شروع ہونے والے ہوں تب بھی چار سال والے کی ٹریننگ پہلے رکھی جائے گی اور چھ ماہ والے کی بعد میں یہی قرآن کریم کی ترتیب کا حال ہے۔قرآن کریم میں جو مضامین اُس وقت کے لحاظ سے ضروری تھے جب وہ نازل ہو رہا تھا اُن کو خدا تعالیٰ نے پہلے رکھا کیوں کہ اس وقت قرآن کریم ابھی اپنی مکمل صورت میں اُن کے سامنے نہیں تھا۔انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ قرآن کیا ہوتا ہے، اسلام کیا ہوتا ہے، رسول کیا ہوتا ہے، وحی کیا ہوتی ہے، الہام کیا ہوتا ہے، خدا تعالیٰ سے تعلق کیا ہوتا ہے۔بلکہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ خدا کیا ہوتا ہے۔اس لیے اُس وقت پہلے ایسے مسائل بیان کیے گئے جو بنیادی حیثیت رکھتے تھے مگر جب وہ مسائل زیر بحث آگئے اور پندرہ بیس سال تک وہ لوگ قرآن کریم کی آیات اور اُس کی تعلیم سنتے رہے تو اُس کے بعد اُن کے ہاں جو اولاد پیدا ہوئی اُس نے اپنے ماں باپ سے یہ باتیں سنی شروع کر دیں اور بچپن سے ہی اُس کے کانوں میں یہ ڈالا جانے لگا کہ خدا کیا ہوتا ہے، رسول کیا ہوتا ہے، الہام کیا ہوتا ہے، اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا نے کیوں مبعوث فرمایا۔پس جب وہ بڑے ہوئے تو اُن کی ذہنیت اور قسم کی تھی۔قرآن جب نازل ہوا تو اُس وقت قرآن کریم کی بہت سی باتیں لوگوں کے لیے بالکل نئی تھیں۔لیکن آئندہ اولاد کے لیے وہ باتیں پرانی ہو چکی تھیں۔غرض ترتیب قرآن نہایت اہم حکمتوں پر مبنی ہے نزول کی ترتیب اُن لوگوں کے مطابق تھی جو اُس زمانہ میں تھے اور موجودہ ترتیب آئندہ آنے والی نسلوں کی ضرورت کے مطابق ہے اور یہ اس کلام کے منجانب اللہ ہونے کا ایک بڑا بھاری ثبوت ہے۔( تفسیر کبیر زیر آیت الفرقان : 23 جلد 4 صفحہ 490 تا492) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ترتیب نزولی اور دائگی تریب میں فرق کی حکمت کے بارہ میں فرماتے ہیں: یہ اختلاف دو اصول کے ماتحت ہے: اول تو بوجہ اس کے کہ صحابہ کی جماعت وہ پہلی جماعت تھی جو اسلامی شریعت کے مطابق قائم ہوئی اور اس سے پہلے کوئی جماعت اسلامی شریعت کی حامل نہیں تھی اور نہ ہی دُنیا میں اسلامی شریعت کا وجود تھا اور قرآن کے ذریعہ سے پہلے طریق و تمدن کو مٹا کر ایک بالکل ہی نئے طریق و تمدن کی بنیاد پڑنی تھی اس لیے ضروری تھا کہ اس وقت کے لوگوں کے سامنے ان کی ذہنیت اور ماحول کے مناسب حال قرآنی احکامات کا نزول ہوتا تا کہ وہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو بدلنے اور نئی تعلیم کو اپنے اندر جذب کرنے میں آسانی پاتے اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے بہترین