اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 173 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 173

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 173 پر بے شمار نا قابل تردید دلائل ہیں اور ہر دلیل اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔حفاظت قرآن کی خاطر اختیار کیے گئے الہی وسائل پر ایک اجمالی نظر ہم ڈال چکے ہیں۔اگر اس تمام تر احتیاط کے باوجود جھوٹ راہ پا سکتا ہے تو پھر تو بدرجہ اتم ماننا پڑے گا کہ کتاب "Why I Am Not A Muslim" جھوٹ کا ایک غلیظ پلندہ ہے کیونکہ مصنف بار بار دجل اور فریب سے کام لیتا ہے اور یہ بات بلا مبالغہ کہی جارہی ہے۔قاری اس کی مثالیں بار بار دیکھے گا کہ ابن وراق کس طرح دجل اور فریب سے کام لیتا ہے اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ رکھنے والا اگر اس کتاب کے کوئی سے دس صفحات بھی پڑھے گا تو اسے ضرور جھوٹ کی ایک چھوڑ بیسیوں مثالیں مل جائیں گی۔قرآن کریم میں مختلف آیات کے بارہ میں مختلف آراء رکھنے والے محققین اور مفسرین نے ہمیشہ آزادی کے ساتھ اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔مگر آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۔(الحجر: 10) کے بارہ میں ہر دور کے عظیم مسلمان محققین نے ہمیشہ ایک ہی رائے رکھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کر دکھایا۔اسلامی تاریخ میں اعلی علمی مقام کا حامل کوئی ایک بھی ایسا محق نہیں ملتا جو حفاظت قرآن کے موضوع پر کبھی شک میں مبتلا ہوا ہو۔پس کیسے ممکن ہے کہ ہر معمولی سے معمولی بات کو نوٹ کرنے والے صحابہ اور پھر بعد میں آنے والے محققین کوئی ایسا قرینہ موجود پاتے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتا کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی طرف سے قرآن کریم میں کوئی رد و بدل کی ہے اور پھر خاموشی اختیار کرتے ؟ خاص طور پر اس صورت میں کہ جب دُنیا کے مختلف حصوں میں آزادانہ تحقیق ہوئی اور ایک دوسرے سے کوئی رابطہ نہ ہونے کے باوجود تمام نامی گرامی مسلم محققین ایک ہی نتیجہ پر پہنچے۔ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اور آپ کے جانثاروں کا پاک اسوہ ، اور پھر اس پر دیانت داری سے تحقیق کرنے والے اپنوں اور غیروں کی گواہیاں بھی اور دوسری طرف اس قوم کو دیکھیے جو آپ کی مخالفت پر کمر بستہ تھی۔جہاں وہ رسول کریم کے صداقت اور امانت و دیانت اور دوسرے اخلاق عالیہ پر فائز ہونے کا اقرار کرتے رہتے تھے وہاں کبھی کبھی دبے لفظوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بالمقامل اپنے دجل اور فریب کا اقرار بھی کرتے تھے۔ابوسفیان کا اقرار درج ہو چکا ہے۔پھر اسلام سے قبل کا اور اسلام کے نزول کے دور کا ادب جاہلی عربوں کی زبان سے ان کی اخلاقی زبوں حالی کی داستان ہے جس کی تصدیق ہر مؤرخ نے کی ہے۔یہی حال آج کے مخالفین اسلام کا ہے۔بہت سے مغربی محققین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اُن کی قوم تحقیق کے نام پر اسلام کے خلاف شرمناک بددیانتی اور جھوٹ کی مرتکب ہوئی ہے۔پس جب مخالف خود اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کر رہا ہو اور اپنی اخلاقی پستی کا گواہ ہو اور ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم