اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 172
الذكر المحفوظ 172 حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس میدان میں قدم رکھیں تو تمام دنیائے تاریخ کی مستند ترین بات ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اور کوئی اس درجہ استناد کو نہیں پہنچا کہ مخالف اور موافق ہر ایک اس کی صداقت کا گواہ بن جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: افسوس کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرشان روار کھ کر یہ خیال نہیں کرتے کہ اس سے ایک عالم کی کسرشان لازم آتی ہے۔کوئی اپنی عقل پر ناز کرے یا بزعم خود کسی دوسرے نبی کا تابع بن بیٹھے۔اس کے لئے یہی سیدھا راستہ ہے کہ اوّل انتہا کی کوشش کر کے قرآن شریف کے حقائق و معارف کے مقابلہ پر اپنی عقل یا اپنی الہامی کتاب میں سے ویسے ہی حقائق حکیمہ نکال کر دکھلا دے پھر جو چاہے بکا کرے۔مگر قبل اس کے جو اس مہم کو انجام دے سکے جو کچھ وہ کسر شان قرآن شریف کرتا ہے یا جو الفاظ تحقیرانہ حضرت خاتم الانبیاء کے حق میں بولتا ہے۔وہ حقیقت میں اسی نادان ناقص العقل پر یا اس کے کسی نبی و بزرگ پر وارد ہوتے ہیں۔کیونکہ اگر آفتاب کی روشنی کو تاریکی قرار دیا جائے تو پھر بعد اس کے اور کون سی چیز رہے گی جس کو ہم روشن کہہ سکتے ہیں۔براہین احمدیہ حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 359, 358 یڈیشن اول صفحہ 308 ) پس اس شان کا امین انسان راوی ہو اور مؤمن تو کیا جانی دشمنوں کی گواہی بھی موجود ہو تو اس صورت میں محقق کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ تسلیم کرے اور رڈ کرنے کی صورت میں تمام دنیا کی مذہبی اور غیر مذہبی تاریخ کو رڈ کرنا پڑتا ہے کیونکہ تمام مذہبی صحائف میں صرف قرآن ہی ہے جو تاریخ کا حصہ ہے۔باقی صحائف قبل از تاریخ کے زمرہ میں آتے ہیں اور مذہبی تاریخ کے علاوہ دوسری تاریخ بھی اس درجہ استناد کو نہیں پہنچتی۔جب بھی تاریخ کو مانیں گے قرآن کو مانیں گے اور اگر ثابت شدہ تاریخی صداقتوں کو جھٹلانا بھی شروع کریں تو تمام تاریخ کے بعد قرآن کریم کی سمت نظر کرنا پڑے گی۔پھر تاریخی پہلو کے علاوہ بھی بیشمار ایسے پہلو ہیں جن کو رد نہیں کیا جاسکتا۔مثلاً تاریخی استناد کو پس پشت بھی ڈال دیا جائے تو ہر زمانہ میں نازل ہونے والی قرآن کریم کی تاثیرات قدسیہ اس کی صداقت کے ثبوت میں سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔پھر وہ علوم جو قرآن میں بیان ہیں اور انسانی پہنچ سے باہر ہیں اور ایسے ہیں کہ جو صرف خدا تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے، گواہی دیں گے کہ قرآن کریم کلامِ الہی ہے۔پھر قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں وصال الہی کے مرتبہ کو پانے والے اس کے متبعین قرآن کریم کی صداقت کے گواہ کے طور پر آموجود ہوں گے جو ہر زمانہ میں اس بات کے ثبوت کے طور پر موجو د رہے ہیں کہ قرآن کریم محفوظ کلام الہی ہے جو آج بھی اپنے متبعین کو اولین سے ملاتا ہے اور ان میں صحابہ کی خصوصیات پیدا کر دیتا ہے۔پس قرآن کریم کی حفاظت