اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 115
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب کے مرتد ہونے کی وجہ بھی سیاسی ہی تھی۔واللہ اعلم۔115 پس روایات کے تجزیہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ عبداللہ بن سعد ابی سرح کے واقعہ کو اس شخص کے واقعہ سے خلط ملط کر دیا گیا ہے۔تفصیلات اس شخص کی لی گئی ہیں جو بعد میں عیسائی ہو گیا تھا اور نام عبداللہ بن سعد ابی سرح کالیا گیا ہے۔اور قابل غور بات یہ ہے کہ مدنی دور میں مرتد ہونے والے اس شخص کے بارہ میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے مخالفین اسلام پر اسرار طور پر خاموش ہیں۔نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک شخص اتنا واضح انداز میں ذکر کرتا ہے کہ وہ ایسا کیا کرتا تھا اور آنحضور صل اللہ علیہ وسلم بھی اور صحابہ کرام بھی اسے کچھ اہمیت نہیں دیتے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی ابن وراق کی طرح عیسائیت کا ایک دجل تھا اور ایسا بھونڈا دجل تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر اس کی حقیقت آشکار ہو ہی چکی تھی۔اور اس کے ساتھ ساتھ مخالفین کو بھی اس کا طریقہ واردات کچھ ایسا نہ بھایا کہ اسے وقعت دیتے یا پھر یہ کہ اس شخص کا کردار ایسا تھا کہ دوست اور دشمن سب اس کی بات کو اہمیت نہیں دے سکتے تھے اور اس کی اتنی حیثیت نہیں تھی یا اس کا جھوٹا ہونا اتنا مسلم تھا کہ مخالفین بھی اُسے اسلام کے خلاف بطور گواہ پیش کرتے ہوئے ہچکچاتے اور خاموشی میں ہی عافیت سمجھتے تھے۔واللہ اعلم۔دوسری طرف عبد اللہ بن سعد ابی سرح کا واقعہ بھی قطع نظر اپنی جملہ تفصیلات کے، ہمعصر مخالفین کی طرف سے کبھی اچھالا نہیں گیا۔حالانکہ عبداللہ بن سعد ابی سرح تو اس مقام اور مرتبہ کے انسان تھے کہ اگر ان کی طرف سے حفاظت قرآن کے سلسلہ میں کوئی الزام لگتا تو ایک شور مچ جاتا مگر اس حوالہ سے مخالفین کے کیمپ میں مکمل خاموشی رہی۔لیکن اب تلبیس یہ کی گئی کہ عبداللہ بن سعد ابی سرح کے حوالہ سے وہ کچھ کہا گیا جو مدنی دور میں عیسائی ہوکر مر جانے والا شخص کہا کرتا تھا۔چنانچہ جب شخصیت تبدیل ہوئی تو واقعہ اہم ہو گیا۔گویا اُس عیسائی ہونے والے شخص کی بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی مگر اب جب یہ دجل کیا گیا کہ اُس شخص کی بات کو عبد اللہ بن سعد ابی سرح کی۔شخصیت کے سائے میں پیش کیا گیا تو شخصیت معتبر ہوگئی اور نتیجہ تفصیلات بھی اہم ہو گئیں۔پس جب اُس دور کے ہمعصر مخالفین اسلام ان دونوں واقعات کو غیر اہم سمجھتے ہیں اور انہیں ان واقعات میں اسلام کے خلاف کوئی ثبوت نظر نہیں آتا تو آج پندرہ سو سال گزر جانے کے بعد ان واقعات کی بنیاد پر کیونکر اعتراض کیا جاسکتا ہے؟ ان واقعات کو مسخ کر کے اعتراض کی صورت میں پیش کرنا دجل وفریب کے سوا کچھ نہیں۔عبد الله بن سعد ابی سرح کے واقعہ کے غلط یا صحیح ہونے سے قطع نظر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی پر نازل ہونے والی وحی الہی کا پر تو اور لوگوں پر بھی پڑ جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیونکر ہوتا ہے؟ تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ یہ امراہل علم پر مخفی نہیں کہ نبی کے وقت انتشار نورانیت ہوتا ہے اور نبی پر نازل ہونے والی وحی کا پر تو سعید فطرت لوگوں پر بھی پڑتا ہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بخش تحریرات سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: